اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سرحد پار تجارت میں حائل نان ٹیرف رکاوٹوں اور سپلائی چین کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ٹریڈ فسیلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ 3 ستمبر کو اسلام آباد میں تجارتی سہولت سے متعلق اجلاس کے دوران کیا گیا، جبکہ بورڈ کی سربراہی خود وزیراعظم کریں گے۔

مجوزہ بورڈ کو سرحد پار تجارت سے متعلق غیر محصولاتی امور پر فیصلے کرنے، تجارتی فروغ کے لیے روڈ میپ مرتب کرنے، ٹریڈ فسیلیٹیشن انڈیکس کی حکمت عملی بنانے اور پیش رفت کی نگرانی کا طریقۂ کار وضع کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ اجلاس میں پوری تجارتی سپلائی چین میں بہتری اور مختلف سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر رابطے کو بنیادی ترجیح قرار دیا گیا۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ملک کی بندرگاہوں کی گنجائش اور کارکردگی بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ورکنگ گروپس تشکیل دینے کا بھی کہا گیا ہے جو بندرگاہی استعداد، ضابطہ جاتی تقاضوں پر عمل درآمد، ادارہ جاتی ہم آہنگی، جہاز کی آمد سے پہلے دستاویزات اور سامان کی کلیئرنس، اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کی بین الاقوامی تجارت میں شرکت جیسے معاملات کا جائزہ لیں گے۔

اجلاس میں درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے بندرگاہوں پر سامان کی نقل و حرکت، دستاویزی کارروائی اور کلیئرنس کو آسان بنانے کی ہدایت بھی دی گئی۔ حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ جاری اصلاحات کے تحت بندرگاہی چارجز میں کمی کے بعد بندرگاہوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ جہازوں کی آمد سے پہلے گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کی سہولت کو مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت فی الحال بورڈ کے قیام کی انتظامی منظوری اور آئندہ لائحۂ عمل کی تیاری سے متعلق ہے۔ نان ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے، بندرگاہی اصلاحات کے عملی نفاذ اور کلیئرنس کے اوقات میں حقیقی کمی کے نتائج بورڈ کے فیصلوں، ورکنگ گروپس کی سفارشات اور متعلقہ محکموں کی عمل داری کے بعد سامنے آئیں گے۔ اجلاس میں تجارت، خزانہ، اقتصادی امور، بحری امور، قومی غذائی تحفظ اور دیگر متعلقہ وزارتوں کے حکام شریک ہوئے۔