استنبول: عالمی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل نے کہا ہے کہ ترکی کی سخت مالیاتی پالیسی اور سابق غیر روایتی معاشی حکمت عملی سے دوری ملک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے لیے معاون ہے، لیکن مہنگائی میں کمی کی رفتار توقع سے سست رہنے اور آئندہ انتخابی ماحول کے باعث مرکزی بینک کی پالیسی نظم کو اہم امتحان کا سامنا ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق ایس اینڈ پی کا جائزہ ترکی کی حالیہ معاشی سمت کو مکمل کامیابی قرار دینے کے بجائے ایک ایسے عمل کے طور پر دیکھتا ہے جس میں پالیسی تسلسل بنیادی شرط ہے۔ بلند شرح سود اور سخت مالیاتی حالات کے ذریعے قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش جاری ہے، مگر افراط زر کا راستہ اب بھی غیر یقینی ہے۔ اسی لیے ریٹنگ ایجنسی کی توجہ صرف موجودہ اعداد و شمار پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہے کہ سیاسی دباؤ بڑھنے کی صورت میں پالیسی کتنی دیر برقرار رہتی ہے۔
ترکی نے گزشتہ برسوں میں شرح سود، کرنسی اور مہنگائی کے حوالے سے کئی غیر روایتی اقدامات آزمائے تھے۔ بعد میں حکام نے زیادہ روایتی مالیاتی پالیسی کی طرف واپسی کی، جس میں مرکزی بینک کی سختی اور قیمتوں کے استحکام پر زور شامل ہے۔ اس تبدیلی نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور ریٹنگ اداروں کی توجہ حاصل کی کیونکہ کریڈٹ ریٹنگ میں پالیسی کی پیش گوئی، بیرونی مالی ضروریات اور مہنگائی کے رجحان کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایس اینڈ پی نے انتخابی دور کو ممکنہ خطرے کے طور پر اس لیے نمایاں کیا ہے کہ انتخابات کے قریب حکومتوں پر شرح سود میں نرمی، اخراجات میں اضافے یا قرض کی شرائط آسان بنانے کے لیے سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اگر مالیاتی سختی قبل از وقت کم کی جاتی ہے تو مہنگائی دوبارہ تیز ہونے یا کرنسی پر دباؤ بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ ایک خطرے کا تجزیہ ہے، نہ کہ اس بات کی تصدیق کہ ترکی لازماً ایسی پالیسی اختیار کرے گا۔
ترکی کی معیشت کے لیے مہنگائی میں مستقل کمی، زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی سرمایہ کاری اور مقامی کرنسی پر اعتماد باہم منسلک عوامل ہیں۔ ریٹنگ ادارے انہی اشاریوں کے ساتھ مالیاتی اور بجٹ پالیسی کے تسلسل کو بھی دیکھتے ہیں۔ اس لیے ایس اینڈ پی کی رائے مستقبل کی ریٹنگ کے لیے ایک اشارہ ہے، لیکن کسی خودکار اپ گریڈ یا ڈاؤن گریڈ کا اعلان نہیں۔
آنے والے عرصے میں مرکزی بینک کے شرح سود کے فیصلے، مہنگائی کے سرکاری اعداد و شمار اور انتخابی مہم کے دوران حکومت کی مالی ترجیحات یہ واضح کریں گی کہ موجودہ پالیسی فریم ورک کس حد تک برقرار رہتا ہے۔ فی الحال ایس اینڈ پی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پالیسی تبدیلی نے ترکی کی کریڈٹ تصویر کو سہارا دیا ہے، مگر اس کا استحکام مسلسل نظم اور مہنگائی پر قابو پانے سے مشروط رہے گا۔
