استنبول: ترکی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی سے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور علاقائی استحکام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے استنبول میں علاقائی اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ سے بات چیت کے بعد کہا کہ جنگ کے خاتمے کا قابل عمل راستہ سفارت کاری اور مذاکرات ہی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق استنبول اجلاس میں مصر، پاکستان، سعودی عرب، جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ مذاکرات میں ایران جنگ، سعودی عرب پر حوثی حملوں، آبنائے ہرمز کی صورتحال، غزہ اور روس یوکرین جنگ سمیت متعدد بحران زیر بحث آئے۔ یہ اجتماع علاقائی فور آر اور یورپی ای تھری ممالک کے درمیان غیر معمولی سفارتی رابطے کا حصہ تھا۔
فیدان نے کہا کہ ایران پر دوبارہ حملہ پورے خطے میں کشیدگی بڑھا سکتا ہے۔ فرانس کے وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے بھی خبردار کیا کہ ایران اور امریکا کے درمیان نئی فوجی شدت کسی کے مفاد میں نہیں ہوگی اور اس سے تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ یورپی ممالک نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے لیے آمادگی کا اظہار بھی کیا۔
یہ سفارتی سرگرمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مزید ممکنہ فوجی اقدامات کے بارے میں خدشات موجود ہیں۔ مختلف رپورٹس میں ایرانی توانائی، جوہری تنصیبات اور میزائل و ڈرون صلاحیتوں کو ممکنہ اہداف کے طور پر زیر بحث لایا گیا ہے، تاہم کسی آئندہ کارروائی کے بارے میں حتمی سرکاری فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
ترکی حالیہ مہینوں میں واشنگٹن، تہران اور علاقائی ثالثوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انقرہ کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز اور وسیع تر خلیجی خطے میں کشیدگی عالمی توانائی منڈی، تجارت اور علاقائی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ استنبول مذاکرات میں شریک ممالک نے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا، لیکن کسی جامع جنگ بندی یا سیاسی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا۔
