فیصل آباد: یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد اور گارڈ ایگریکلچرل ریسرچ اینڈ سروسز نے ہائبرڈ گندم کی تحقیق اور ترقی کے لیے تین سالہ تعاون شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں اداروں کے درمیان طے پانے والے لیٹر آف انٹینٹ کے تحت ہائبرڈ گندم کی افزائش، بیج کی تیاری، مختلف مقامات پر آزمائش اور تجارتی امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

دستیاب تفصیلات کے مطابق تعاون کا مقصد ایسی گندم کی اقسام اور ہائبرڈ تیار کرنا ہے جو زیادہ پیداوار کے ساتھ موسمی دباؤ اور بیماریوں کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔ پاکستان میں گندم بنیادی غذائی فصل ہے اور اس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ خوراک کی دستیابی، کسانوں کی آمدن اور درآمدی ضروریات کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

گارڈ ایگریکلچرل ریسرچ اینڈ سروسز کے چیف ایگزیکٹو شہزاد علی ملک اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے تعاون کے فریم ورک سے متعلق دستاویز پر دستخط کیے۔ منصوبے میں یونیورسٹی کی تحقیقی مہارت اور نجی شعبے کی بیج سازی و فیلڈ ٹرائل صلاحیتوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق تحقیقی ٹیمیں ابتدائی ہائبرڈ مواد کی جانچ، والدینی لائنوں کی بہتری اور مختلف زرعی ماحول میں پیداوار کے نتائج کا تقابل کریں گی۔ اس عمل میں ملٹی لوکیشن ٹرائلز اہم ہوں گے کیونکہ کسی ایک مقام پر اچھی پیداوار دینے والی لائن کا مختلف آب و ہوا، زمین اور آبپاشی حالات میں اسی طرح کامیاب ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

گارڈ سے منسلک تحقیق میں بعض تجرباتی ہائبرڈ لائنوں سے 98 من فی ایکڑ تک پیداوار کے نتائج کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ اعداد تجرباتی یا مخصوص آزمائشی حالات سے متعلق ہیں اور انہیں ملک بھر کے کسانوں کے لیے ضمانت شدہ تجارتی پیداوار نہیں سمجھا جاسکتا۔ نئی اقسام یا ہائبرڈ کی وسیع پیمانے پر کاشت سے پہلے مزید آزمائش، سرکاری جانچ اور متعلقہ منظوری کے مراحل درکار ہوتے ہیں۔

دونوں اداروں نے تحقیق کے ساتھ طلبہ اور ماہرین کی تربیت، تکنیکی معلومات کے تبادلے اور بیج کی مقامی صلاحیت بڑھانے پر بھی توجہ دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ پاکستان میں گندم کی پیداوار موسمی تبدیلی، پانی کی دستیابی، بیج کے معیار، کھاد کی قیمت اور بیماریوں سمیت کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے، اس لیے صرف جینیاتی بہتری کے ساتھ بہتر زرعی انتظام بھی ضروری رہتا ہے۔

تین سالہ تعاون کے عملی نتائج آزمائشی فصلوں، پیداوار کے قابل تکرار اعداد و شمار اور ممکنہ تجارتی ہائبرڈ کی منظوری کے بعد واضح ہوں گے۔ فی الحال یہ معاہدہ تحقیق و ترقی کا فریم ورک ہے، کسی نئی ہائبرڈ گندم کی فوری تجارتی ریلیز کا اعلان نہیں۔