اسلام آباد: 99 میگاواٹ کے UEP Wind Power منصوبے نے سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ (CPPA-G) سے 5.824 ارب روپے کی ادائیگی مانگی ہے تاکہ 31 دسمبر 2026 تک اپنے لازمی مالی واجبات پورے کیے جا سکیں۔ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ مطلوبہ نقد رقم دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اسے قرض اور دیگر ادائیگیوں کے حوالے سے ڈیفالٹ کے خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ابتدائی ترجیحی توانائی منصوبوں میں شامل رہا ہے۔

Business Recorder کے مطابق کمپنی نے 19 اکتوبر کو CPPA-G کے چیف ایگزیکٹو افسر کو خط لکھ کر اپنی متوقع نقدی کی صورت حال بیان کی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ موجودہ کیش فلو سال کے اختتام تک قرض کی اقساط، آپریشن اور مینٹیننس اخراجات، سیلز ٹیکس، ورکنگ کیپیٹل قرض کی واپسی، انشورنس اور دیگر آپریٹنگ اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اسی لیے 5.824 ارب روپے کی رقم ماہانہ ضرورت کے مطابق مختلف اقساط میں جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

بجلی کے شعبے میں پیداواری کمپنیوں اور سرکاری خریدار کے درمیان واجبات کی بروقت ادائیگی طویل عرصے سے مالی دباؤ کا اہم مسئلہ رہی ہے۔ ادائیگیوں میں تاخیر سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی قرض ادائیگی، پلانٹ آپریشن، مرمت اور دیگر معاہداتی ذمہ داریوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ UEP Wind Power کی درخواست بھی اسی نقدی کے انتظام سے متعلق ہے، تاہم کمپنی کی جانب سے رقم مانگنا اس بات کی تصدیق نہیں کہ CPPA-G نے پوری رقم کی ادائیگی منظور یا جاری کر دی ہے۔

ونڈ پاور منصوبے قابل تجدید توانائی کے ذریعے پاکستان کے بجلی کے مجموعی نظام میں حصہ ڈالتے ہیں اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی پالیسی سے بھی منسلک ہیں۔ تاہم ایسے منصوبوں کی مالی پائیداری پاور پرچیز معاہدوں، بروقت وصولیوں، قرض کی شرائط اور آپریشنل اخراجات سے جڑی رہتی ہے۔ کمپنی کے خط میں بیان کردہ ڈیفالٹ کا امکان ایک مالی خطرے کی تنبیہ ہے، اسے واقع ہو چکا ڈیفالٹ نہیں سمجھا جا سکتا۔

آئندہ صورت حال اس بات پر منحصر ہوگی کہ CPPA-G کمپنی کی درخواست پر کتنی اور کب ادائیگی کرتا ہے اور آیا کمپنی مقررہ مدت میں اپنے مالی واجبات پورے کر پاتی ہے۔ اس معاملے کی اہمیت صرف ایک منصوبے تک محدود نہیں بلکہ پاور سیکٹر میں گردشی قرض، پیداواری کمپنیوں کی لیکویڈیٹی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد جیسے وسیع مسائل سے بھی جڑی ہوئی ہے۔