بنکاک: پاکستان کی نجی شعبے کی یونیورسل گیس ڈسٹری بیوشن کمپنی (UGDC) نے گیس ٹیک 2026 کانفرنس میں شہری گیس ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور بڑے لوڈ سینٹرز کے لیے مخصوص پائپ لائن نیٹ ورکس میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں منعقد ہونے والی عالمی توانائی نمائش میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ایسے منصوبوں کا تصور پیش کیا جو موجودہ سرکاری گیس تقسیم نظام کے متبادل یا تکمیلی ڈھانچے کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔
گیس ٹیک قدرتی گیس، ایل این جی، کم کاربن توانائی اور توانائی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت سے متعلق دنیا کی بڑی نمائشوں اور کانفرنسوں میں شمار ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2026 کی تقریب میں تقریباً 150 ممالک، 8 ہزار مندوبین اور ایک ہزار نمائش کنندگان شریک ہیں، جبکہ پاکستان پہلی مرتبہ اس ایونٹ میں نمائندگی کرنے والے ممالک میں شامل ہوا۔ UGDC نے اپنا اسٹال عالمی توانائی کمپنیوں کے ساتھ قائم کیا اور پاکستان میں نجی شعبے کے گیس انفراسٹرکچر کے امکانات پر سرمایہ کاروں سے بات چیت کی۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو غیاث عبداللہ پراچہ کے مطابق مجوزہ ماڈل میں ایسے مقامات پر گیس ذخیرہ اور تقسیم کا الگ انتظام شامل ہو سکتا ہے جہاں طلب زیادہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی سرمایہ کاری اور براہِ راست کاروبار سے کاروبار مشترکہ منصوبوں کے ذریعے گیس کی ترسیل میں نقصانات کم کرنے اور صارفین کو نسبتاً کم قیمت پر گیس فراہم کرنے کی گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں اس وقت سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز اور سوئی سدرن گیس کمپنی سرکاری سطح پر بڑے تقسیم نیٹ ورکس چلا رہی ہیں۔
UGDC نے حکومتی پالیسی میں نجی شعبے کے لیے گیس کی دستیابی بڑھانے کے اقدامات کو بھی اپنی سرمایہ کاری پیشکش کا حصہ بنایا۔ کمپنی کے مطابق تلاش و پیداوار کرنے والی کمپنیوں کی پیداوار کا ایک حصہ نجی خریداروں کے لیے مختص کرنے کی پالیسی گیس مارکیٹ میں مسابقت اور نئے کاروباری ماڈلز کے لیے راستہ کھول سکتی ہے۔ پراچہ نے کہا کہ کمپنی غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ ایسے منصوبوں پر کام کرنا چاہتی ہے جن سے نئی سرمایہ کاری آئے اور تقسیم کے نظام میں کارکردگی بہتر ہو۔
پاکستان کا گیس شعبہ کئی برس سے مقامی پیداوار میں کمی، درآمدی ایندھن کی لاگت، گردشی قرض اور تقسیم کے نقصانات جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اس پس منظر میں نجی سرمایہ کاری کی یہ پیشکش ایک کاروباری تجویز ہے، نہ کہ کسی حتمی منصوبے کی منظوری۔ کسی بھی نئے گیس اسٹوریج یا پائپ لائن منصوبے کے لیے متعلقہ حکومتی، ریگولیٹری اور تجارتی منظوریوں کے ساتھ مالیاتی قابلِ عملیت بھی ضروری ہوگی۔ گیس ٹیک میں پاکستان کی موجودگی کا فوری نتیجہ سرمایہ کاری معاہدوں کی صورت میں سامنے نہیں آیا، تاہم کمپنی نے عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے ملکی گیس انفراسٹرکچر میں شراکت کے امکانات باضابطہ طور پر پیش کر دیے ہیں۔

