لندن: برطانیہ میں ائیر ٹریفک کنٹرول کے بڑے تکنیکی تعطل کے بعد بدھ کو پروازیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں، تاہم ملک کے بڑے ہوائی اڈوں اور فضائی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ طیاروں اور عملے کو دوبارہ درست مقامات پر پہنچانے کے عمل کے باعث مسافروں کو مزید تاخیر اور منسوخی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ منگل کے تعطل میں ایک ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ ہوئیں اور بڑی تعداد میں مسافر متاثر ہوئے۔
برطانوی ائیر ٹریفک سروس فراہم کرنے والے ادارے NATS کے سربراہ مارٹن رولف نے خرابی پر معذرت کی اور کہا کہ دستیاب شواہد کے مطابق واقعہ سائبر حملہ نہیں تھا۔ ادارے نے نظام کو بحال کرنے اور فضائی ٹریفک کو محفوظ طریقے سے معمول پر لانے کے لیے اقدامات کیے۔ تاہم اتنے بڑے پیمانے کی رکاوٹ کے بعد پروازوں کا شیڈول فوراً معمول پر آنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ طیارے، پائلٹس اور کیبن عملہ اپنے مقررہ اگلے روٹس سے مختلف مقامات پر پھنس سکتے ہیں۔
برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ ہیڈی الیگزینڈر نے NATS کے سربراہ کو وضاحت کے لیے طلب کیا ہے۔ واقعے نے برطانیہ کے فضائی ٹریفک انفراسٹرکچر کی قابل اعتماد کارکردگی پر نئے سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ گزشتہ برسوں میں بھی بڑے تکنیکی مسائل سامنے آ چکے ہیں۔ بعض فضائی کمپنیوں کے سربراہان نے NATS کی قیادت پر سخت تنقید کی، مگر یہ انتظامی مطالبات ہیں اور کسی باضابطہ برطرفی یا قانونی ذمہ داری کا حتمی فیصلہ نہیں۔
ہیتھرو اور گیٹ وک سمیت بڑے ہوائی اڈے متاثر ہوئے، جبکہ مختلف فضائی کمپنیوں کو سیکڑوں پروازیں منسوخ یا دوبارہ ترتیب دینا پڑیں۔ مسافروں کے لیے فوری مسئلہ متبادل پرواز، رہائش، سامان اور کنکشنز کا ہے، جبکہ ایئرلائنز کے لیے پورے نیٹ ورک کو دوبارہ متوازن کرنا ایک پیچیدہ عملی مرحلہ ہے۔
پروازوں کی بحالی اس بات کی علامت ہے کہ بنیادی ائیر ٹریفک نظام دوبارہ کام کر رہا ہے، لیکن واقعے کی مکمل تکنیکی وجہ اور مستقبل میں اسی نوعیت کے تعطل سے بچنے کے اقدامات ابھی جانچ کا موضوع ہیں۔ حکومتی پوچھ گچھ اور NATS کی تکنیکی رپورٹ سے یہ واضح ہوگا کہ خرابی کہاں پیدا ہوئی اور نظام کی لچک بڑھانے کے لیے کیا تبدیلیاں ضروری سمجھی جاتی ہیں۔




