لندن: برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے خلاف تجارتی اقدامات کی سمت مشترکہ مؤقف اختیار کیا ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ممالک غیر قانونی بستیوں سے اشیا کی تجارت پر قومی پابندیاں متعارف کرانے، یورپی سطح کے اقدامات کی حمایت کرنے، یا اپنے قانونی طریقہ کار کے مطابق ایسے اقدامات پر فعال غور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مشترکہ بیان میں اسرائیلی حکومت کی مغربی کنارے میں پالیسیوں کو دو ریاستی حل کے امکان کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا اور آبادکاروں کے تشدد اور بستیوں کی توسیع پر تشویش ظاہر کی گئی۔ بیان میں خاص طور پر ای ون آبادکاری منصوبے کے لیے ٹینڈرز کے اجرا کا حوالہ دیتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا گیا۔

یہ اعلان تمام 12 ممالک میں ایک ہی نوعیت کی فوری اور یکساں پابندی نافذ ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ سرکاری متن کے مطابق مختلف ممالک اپنے قومی طریقہ کار کے تحت پابندیاں متعارف کرانے یا یورپی اقدامات کی حمایت اور دیگر ممکنہ اقدامات پر غور کرنے کی مختلف پوزیشنوں میں ہیں۔ اس لیے ہر ملک کے عملی قانونی اقدام کی نوعیت اس کے اپنے فیصلوں اور ضابطوں سے طے ہوگی۔

برطانوی سرکاری بیان کے مطابق برطانیہ کے وزیراعظم، فرانس کے صدر اور کینیڈا کے وزیراعظم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دو ریاستی حل کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے کارروائی ضروری ہے۔ مشترکہ مؤقف میں بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتے ہوئے تجارتی تعلقات کو دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی سمت اشارہ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی حکومت نے ایسے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق برطانیہ کی پالیسی کے جواب میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کے خلاف کارروائی سمیت جوابی اقدامات کا اعلان کیا، جس سے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے۔ اسرائیلی حکام نے بیرونی پابندیوں کو اپنے داخلی اور سیاسی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے، جبکہ پابندیوں کے حامی ممالک انہیں بین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کے تحفظ سے جوڑ رہے ہیں۔

مغربی کنارے کی بستیوں کا معاملہ طویل عرصے سے اسرائیل فلسطین تنازع کے بنیادی سفارتی مسائل میں شامل ہے۔ تازہ مشترکہ بیان کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ متعدد مغربی ممالک نے محض سیاسی مذمت کے بجائے تجارت سے متعلق عملی پابندیوں یا ان کی حمایت کو اپنی پالیسی کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ آئندہ مرحلے میں ہر ملک کی قومی قانون سازی اور یورپی سطح پر ممکنہ فیصلے ان اقدامات کی حقیقی وسعت واضح کریں گے۔