اسلام آباد: اقوام متحدہ کی معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق کی کمیٹی جنیوا میں پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی عہدنامہ برائے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق پر عمل درآمد کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ پاکستان کی دوسری دورانیہ رپورٹ کا جائزہ ہے اور اس عمل میں ریاستی نمائندوں سے خوراک، رہائش، تعلیم، صحت، سماجی تحفظ، پانی اور صفائی سمیت عہدنامے میں تسلیم شدہ حقوق پر پیش رفت کے بارے میں سوالات کیے جائیں گے۔
کمیٹی 18 آزاد ماہرین پر مشتمل ہے اور رکن ممالک کی جانب سے عہدنامے پر عمل درآمد کی نگرانی کرتی ہے۔ موجودہ اجلاس ایسے وقت ہو رہا ہے جب معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کے عہدنامے اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی عہدنامے کی منظوری کو ساٹھ سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق دونوں معاہدے عالمی انسانی حقوق کے نظام کی بنیادی دستاویزات میں شمار ہوتے ہیں۔
پاکستانی وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک کریں گے۔ وفد میں پاکستان کے مستقل نمائندے طاہر اندرابی، وزارت انسانی حقوق کے سیکریٹری اور ٹرانس جینڈر حقوق کی مشیر نایاب علی سمیت دیگر حکام شامل ہیں۔ پاکستان نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ملکی قانونی نظام میں عہدنامے کے متعدد حقوق کے نفاذ اور عدالتی تحفظ کے لیے پیش رفت ہوئی ہے اور عدالتیں و انتظامی ادارے حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے سکتے ہیں۔
پاکستان نے نومبر 2004 میں اس عہدنامے پر دستخط کیے تھے اور اپریل 2008 میں اس کی توثیق کی۔ دوسری دورانیہ رپورٹ میں عہدنامے کے آرٹیکل ایک سے پندرہ تک کے نفاذ سے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ کمیٹی کا جائزہ کسی عدالتی مقدمے کی سماعت نہیں بلکہ ریاست اور ماہرین کے درمیان ایک باقاعدہ نگرانی اور مکالمے کا عمل ہے، جس کے اختتام پر کمیٹی عمومی طور پر مشاہدات اور سفارشات جاری کرتی ہے۔
دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جائزے کے موقع پر اپنی بریفنگ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے بعض بنیادی معاشی و سماجی حقوق کو داخلی قانون میں مکمل طور پر قابل نفاذ بنیادی حقوق بنانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ تنظیم نے سفارش کی ہے کہ عہدنامے میں تسلیم شدہ حقوق کو ملکی قانون میں مکمل طور پر شامل کیا جائے اور ججوں، پراسیکیوٹرز، وکلا اور سرکاری اہلکاروں کے لیے متعلقہ تربیت باقاعدگی سے فراہم کی جائے۔ یہ ایمنسٹی کا جائزہ اور سفارشات ہیں، جبکہ پاکستان اپنی سرکاری رپورٹ میں پیش رفت کا مؤقف پیش کر رہا ہے۔
جنیوا میں ہونے والا جائزہ پاکستان کی انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تناظر میں اہم ہے۔ کمیٹی کی حتمی آبزرویشنز سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ماہرین پاکستان کی پیش رفت، باقی خلا اور آئندہ ترجیحات کو کس انداز میں دیکھتے ہیں۔

