راولپنڈی: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی سلامتی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے فروغ میں اقوام متحدہ کے کردار پر گفتگو کی گئی۔

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے بیان کے مطابق ملاقات میں علاقائی استحکام، جموں و کشمیر تنازع، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کے معاملے اور افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان نکات سے متعلق موقف فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں پیش کیا گیا ہے اور انہیں متعلقہ فریقوں کے سیاسی و سفارتی مؤقف کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بین الاقوامی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنز میں ملک کی شراکت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سیکریٹری جنرل گوتریس کی قیادت میں امن، استحکام اور انسانی تعاون کے لیے اقوام متحدہ کے کردار کو سراہا۔ پاکستان طویل عرصے سے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں فوجی اور پولیس اہلکار فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق انتونیو گوتریس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج کی قربانیوں اور خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کے مسلسل کردار اور علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی کوششوں کو بھی سراہا۔

ملاقات میں کسی نئے دفاعی معاہدے، فوجی آپریشن یا باضابطہ سفارتی سمجھوتے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ بات چیت کا مرکزی دائرہ علاقائی سلامتی، اقوام متحدہ کے امن اقدامات اور جاری تنازعات کے پرامن حل سے متعلق تھا۔ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب خطے میں سلامتی، پانی، افغانستان اور مختلف سفارتی تنازعات پاکستان کی خارجہ و سلامتی پالیسی کے اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔