جنیوا/دمشق: اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے جنوبی شام میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بارے میں شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی اور حالات کے مطابق جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوجی سرگرمیاں زیادہ مسلسل اور گہری ہوتی جا رہی ہیں اور زمینی دراندازیوں، گشت، چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں سے شہری آبادی متاثر ہو رہی ہے۔
یہ ایک قانونی خدشہ اور ابتدائی تشخیص ہے، کسی بین الاقوامی عدالت کا حتمی جنگی جرائم کا فیصلہ نہیں۔ جنگی جرم ثابت کرنے کے لیے مخصوص واقعات، شواہد، ارادے اور قابل اطلاق بین الاقوامی قانون کا باقاعدہ عدالتی جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے اقوام متحدہ کے اہلکار کے بیان کو حتمی مجرمانہ ذمہ داری کے بجائے ممکنہ خلاف ورزیوں سے متعلق انتباہ کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔
جنوبی شام میں حالیہ عرصے کے دوران اسرائیلی فوج کی زمینی موجودگی اور کارروائیوں نے مقامی آبادی کی نقل و حرکت، گھروں کی تلاشی اور روزمرہ زندگی کے بارے میں خدشات بڑھائے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق کارروائیوں کے بڑھتے تسلسل نے شہری تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کے سوالات کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں ہر واقعے کے تمام حقائق کی آزادانہ عدالتی تصدیق شامل نہیں۔
اسرائیل عموماً شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کو سکیورٹی خطرات، سرحدی تحفظ اور مخالف مسلح عناصر سے جوڑتا رہا ہے۔ تاہم بین الاقوامی قانون کے تحت فوجی ضرورت کا دعویٰ بھی شہریوں کے تحفظ، امتیاز، تناسب اور احتیاط کے بنیادی اصولوں سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔ کسی مخصوص کارروائی کی قانونی حیثیت انہی حقائق اور اصولوں کی بنیاد پر الگ سے طے کی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کی تنبیہ سے شام میں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کی بین الاقوامی نگرانی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ آئندہ کسی آزاد تحقیق، دستاویزی شواہد یا عدالتی فورم کے سامنے کارروائی کی صورت میں یہ واضح ہوگا کہ کن مخصوص واقعات میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے اور آیا کسی فرد یا ادارے پر قانونی ذمہ داری عائد کی جا سکتی ہے۔




