اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان کی قیادت میں پیش کی گئی ’معاون ٹیکنالوجی تک رسائی‘ سے متعلق پہلی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی ہے۔ قرارداد کا مقصد معذور افراد، عمر رسیدہ افراد اور دیگر ضرورت مند آبادیوں کے لیے وہ آلات اور ٹیکنالوجیز زیادہ قابل رسائی بنانا ہے جو تعلیم، روزگار، صحت اور روزمرہ زندگی میں خودمختاری بڑھاتی ہیں۔

پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ معاون ٹیکنالوجی کو وسیع ترقیاتی اور شمولیتی ایجنڈے کا حصہ سمجھنا ضروری ہے۔ معاون ٹیکنالوجی میں وہیل چیئر، سماعت کے آلات، مصنوعی اعضا، اسکرین ریڈر اور مواصلاتی معاون نظام سمیت متعدد مصنوعات اور خدمات شامل ہو سکتی ہیں۔

قرارداد رسائی کو تعلیم، روزگار، صحت، سماجی تحفظ اور معاشرے میں بامعنی شرکت سے جوڑتی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں عمومی طور پر رکن ممالک کے لیے سیاسی اور پالیسی سمت فراہم کرتی ہیں، مگر یہ خود بخود ہر ملک میں قابل نفاذ قومی قانون نہیں بنتیں۔ عملی پیش رفت کے لیے قومی بجٹ، صحت و سماجی نظام اور خریداری پالیسیوں میں اقدامات درکار ہوں گے۔

دنیا بھر میں معاون آلات کی ضرورت رکھنے والے بہت سے افراد قیمت، دستیابی، تربیت اور مرمت کی سہولت نہ ہونے کے باعث مناسب ٹیکنالوجی حاصل نہیں کر پاتے۔ کم اور متوسط آمدن والے ممالک میں یہ خلا زیادہ نمایاں ہو سکتا ہے۔ قرارداد اس مسئلے کو عالمی ترقی اور مساوی مواقع کے تناظر میں زیادہ نمایاں کرتی ہے۔

پاکستان کے لیے بھی اس قرارداد کی داخلی اہمیت ہے کیونکہ معذور افراد کی تعلیم، روزگار اور شہری خدمات تک رسائی میں معاون ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ قرارداد کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ عالمی اور قومی سطح پر سستی مصنوعات، مقامی فراہمی، تربیت اور مالی معاونت میں قابل پیمائش اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔