نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے براعظموں کے نسبتی رقبے کو زیادہ درست انداز میں دکھانے والی Equal Earth نقشہ پروجیکشن کے وسیع استعمال کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ جمعہ 4 ستمبر کی رائے شماری میں 164 ممالک نے قرارداد کی حمایت کی، امریکا نے مخالفت میں ووٹ دیا اور چھ ممالک نے غیر جانب داری اختیار کی۔ یہ جنرل اسمبلی کی قرارداد ہے اور رکن ممالک پر قانونی طور پر ایک ہی نقشہ لازمی نافذ نہیں کرتی۔

قرارداد کو متعدد افریقی ملکوں نے آگے بڑھایا، جبکہ ٹوگو نے مہم میں نمایاں کردار ادا کیا۔ منظور شدہ متن Equal Earth کو دنیا کی زمینی سطح اور براعظموں کے باہمی رقبے کی زیادہ درست نمائندگی کے لیے ایک موزوں اختیار قرار دیتا ہے۔ قرارداد رکن ممالک، بین الاقوامی اداروں، تعلیمی نظاموں اور نقشہ تیار کرنے والے اداروں کو اس قسم کی equal-area projection کے استعمال کی ترغیب دیتی ہے۔

روایتی Mercator نقشہ 1569 میں فلیمش نقشہ نگار گیرارڈس مرکیٹر نے بالخصوص سمندری جہاز رانی کے لیے تیار کیا تھا۔ اس پروجیکشن میں سمتوں اور مقامی زاویوں کو دکھانے کی عملی خوبی موجود ہے، لیکن کرۂ ارض کی گول سطح کو چپٹے نقشے پر منتقل کرتے وقت قطبین کے قریب علاقوں کا رقبہ بہت بڑا نظر آنے لگتا ہے۔ نتیجتاً یورپ، شمالی امریکا، روس اور گرین لینڈ بصری طور پر اپنے حقیقی نسبتی رقبے سے بڑے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ افریقہ، جنوبی امریکا اور خط استوا کے قریب دوسرے علاقے نسبتاً چھوٹے نظر آتے ہیں۔

Equal Earth پروجیکشن نقشہ نگاروں کے ایک گروپ نے 2018 میں متعارف کرائی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد براعظموں اور زمینی خطوں کے نسبتی سطحی رقبے کو برقرار رکھتے ہوئے ایسی شکل فراہم کرنا ہے جو عام عالمی نقشے کی طرح قابل فہم بھی رہے۔ اس میں افریقہ، لاطینی امریکا، جنوبی ایشیا اور اوشیانا کا بصری حجم Mercator کے مقابلے میں زیادہ قریبِ حقیقت دکھائی دیتا ہے۔

ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی نے جنرل اسمبلی میں مؤقف اختیار کیا کہ نقشے صرف جغرافیائی اوزار نہیں بلکہ تعلیم، اجتماعی تصور اور دنیا کے بارے میں ذہنی فہم کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ قرارداد کے حامیوں کے مطابق مسلسل بگڑی ہوئی رقبہ جاتی نمائندگی نسلوں تک سیاسی اور ثقافتی تاثر پر اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ قرارداد کے حامیوں کی دلیل ہے؛ نقشہ سازی میں ہر پروجیکشن کا انتخاب اس کے مطلوبہ استعمال پر بھی منحصر ہوتا ہے۔

فرانس نے قرارداد کی شریک سرپرستی کی اور اس کی وزارت خارجہ نے Mercator پروجیکشن ترک کرنے کا اعلان کیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ نقشے میں امریکا، روس اور چین کو افریقہ، لاطینی امریکا اور جنوب مشرقی ایشیا کے مقابلے میں غیر متناسب بصری نمایاں حیثیت ملتی ہے۔ فرانس کے اعلان کی عملی حدود، سرکاری دستاویزات اور تعلیمی مواد میں تبدیلی کا مکمل شیڈول الگ قومی اقدامات سے واضح ہوگا۔

قرارداد کی منظوری سے کسی ملک کی سرحد، رقبہ، خودمختاری یا اقوام متحدہ میں قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ یہ صرف کرۂ ارض کو دو بُعدی سطح پر دکھانے کے طریقے سے متعلق ہے۔ اسی طرح Equal Earth اپنانے کا مطلب یہ نہیں کہ Mercator کو جہاز رانی، مخصوص تکنیکی نقشوں یا ہر موجودہ نظام سے فوری طور پر حذف کر دیا گیا ہے۔

اگلا مرحلہ رکن ممالک اور عالمی اداروں کی جانب سے نصابی کتابوں، سرکاری ویب سائٹس، اٹلس اور عوامی معلومات میں نقشوں کے انتخاب کا ہوگا۔ موجودہ تصدیق شدہ نتیجہ یہ ہے کہ جنرل اسمبلی نے 164 کے مقابلے میں ایک ووٹ سے وسیع تر equal-area نقشہ استعمال کی حمایت کی ہے، مگر نفاذ کی رفتار اور دائرۂ کار ہر حکومت اور ادارہ خود طے کرے گا۔