اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دنیا کے براعظموں اور زمینی خطوں کے نسبتی حجم کو زیادہ درست انداز میں دکھانے والے ’’ایکول ارتھ‘‘ نقشے کی حمایت میں قرارداد منظور کرلی ہے۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق 4 ستمبر 2026 کو ہونے والی رائے شماری میں 164 ملکوں نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، امریکا نے مخالفت کی اور چھ ریاستوں نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد کئی افریقی ملکوں کی قیادت میں پیش کی گئی تھی۔

قرارداد رکن ملکوں کو روایتی مرکیٹر پروجیکشن کے بجائے ایکول ارتھ نقشے کے استعمال کی ترغیب دیتی ہے۔ جنرل اسمبلی کی اس نوعیت کی قرارداد پالیسی سفارش اور بین الاقوامی حمایت ظاہر کرتی ہے، مگر یہ خود بخود ہر ملک، تعلیمی ادارے یا ناشر پر قانونی طور پر لازم عالمی پابندی نہیں بناتی۔ عملی تبدیلی کے لیے حکومتوں، تعلیمی بورڈز، نقشہ ساز اداروں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور پبلشرز کو اپنے نظام اور مواد میں الگ فیصلے کرنا ہوں گے۔

مرکیٹر پروجیکشن فلیمش نقشہ ساز گیرارڈس مرکیٹر نے 1569 میں سمندری جہاز رانی کی ضروریات کے لیے تیار کیا تھا۔ یہ سمتوں، زاویوں اور اشکال کو نیویگیشن کے لیے مفید انداز میں دکھاتا ہے، مگر تین جہتی کرۂ ارض کو دو جہتی سطح پر منتقل کرنے کے باعث مختلف علاقوں کے نسبتی رقبے بگڑ جاتے ہیں۔ اس میں شمالی عرض بلد کے خطے، بالخصوص یورپ، شمالی امریکا اور گرین لینڈ، اپنی اصل جسامت کے مقابلے میں بڑے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ افریقہ، جنوبی امریکا اور خط استوا کے قریب دوسرے علاقے نسبتاً چھوٹے نظر آتے ہیں۔

ایکول ارتھ پروجیکشن 2018 میں نقشہ سازوں کے ایک گروپ نے متعارف کرایا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد براعظموں اور خطوں کے سطحی رقبے کا باہمی تناسب برقرار رکھنا اور ان کی شکل کو ممکن حد تک کرۂ ارض سے مشابہ دکھانا ہے۔ اس طریقے میں افریقہ، لاطینی امریکا، جنوبی ایشیا اور اوشیانا کا حجم مرکیٹر نقشے کی نسبت زیادہ نمایاں اور حقیقی تناسب کے قریب نظر آتا ہے۔ تاہم ہر نقشہ پروجیکشن میں کسی نہ کسی خصوصیت—جیسے شکل، فاصلہ، سمت یا رقبہ—پر سمجھوتا ہوتا ہے؛ ایکول ارتھ کی ترجیح مساوی رقبے کی نمائندگی ہے۔

ٹوگو کے وزیر خارجہ رابرٹ ڈوسی، جن کے ملک نے اس اقدام کو آگے بڑھایا، نے جنرل اسمبلی میں کہا کہ نقشے تعلیم، اجتماعی تصور اور دنیا کو سمجھنے کے انداز پر اثر ڈالتے ہیں۔ افریقی ملکوں کا مؤقف ہے کہ جغرافیائی حجم کی مسلسل مسخ شدہ تصویر محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی خطوں کے بارے میں تاریخی ادراک اور طاقت کے تصور کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ قرارداد نے اسی بنیاد پر زیادہ درست جغرافیائی نمائندگی کو تعلیمی اور علامتی اہمیت دی۔

فرانس نے قرارداد کی مشترکہ سرپرستی کی اور اعلان کیا کہ وہ مرکیٹر پروجیکشن کا استعمال ترک کرے گا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو نے کہا کہ موجودہ نقشے میں امریکا، روس اور چین کو افریقہ، لاطینی امریکا یا جنوب مشرقی ایشیا کے مقابلے میں غیر متناسب بصری اہمیت ملتی ہے۔ فرانس کا اعلان اس کا قومی پالیسی فیصلہ ہے؛ قرارداد کی منظوری سے تمام 164 حمایتی ملکوں نے فوری طور پر یکساں عملی تبدیلی کا اعلان نہیں کیا۔

نقشوں کی تبدیلی تعلیمی نصاب، سرکاری اشاعت، سفارتی مواد اور آن لائن نقشہ سازی کے لیے الگ تکنیکی تقاضے پیدا کرے گی۔ بعض استعمال، خصوصاً سمندری راستوں یا زاویوں کی درستگی، میں مرکیٹر یا دوسری پروجیکشنز بدستور مخصوص فائدہ رکھ سکتی ہیں۔ اس لیے قرارداد کا مرکزی نکتہ ہر مقصد کے لیے ایک ہی نقشہ لازمی بنانا نہیں بلکہ عمومی عالمی نمائندگی میں نسبتی رقبے کی درست تصویر کو ترجیح دینا ہے۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت جنرل اسمبلی کی قرارداد، 164 ووٹوں کی حمایت، امریکا کی مخالفت، چھ ملکوں کی عدم شرکت اور فرانس کا مرکیٹر نقشہ چھوڑنے کا اعلان ہے۔ رکن ممالک کے اسکولوں، سرکاری نقشوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں عملی تبدیلی کا دائرہ اور رفتار ان کے بعد کے فیصلوں سے واضح ہوگی۔