اسلام آباد: یونیسف، ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل اور انٹرپول کی نئی تحقیق نے اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان میں 12 سے 17 سال عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے تقریباً 15 لاکھ بچے ایک سال کے دوران ٹیکنالوجی کے ذریعے جنسی استحصال یا بدسلوکی کی کم از کم ایک صورت سے متاثر ہوئے۔ ’’ڈسرپٹنگ ہارم اِن پاکستان‘‘ رپورٹ کے مطابق یہ شرح تقریباً 6 فیصد، یا ہر 16 انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچوں میں قریب ایک، بنتی ہے۔ 15 لاکھ براہِ راست درج مقدمات کی تعداد نہیں بلکہ قومی نمائندہ سروے سے آبادی پر اخذ کیا گیا تخمینہ ہے۔
تحقیق یونیسف آفس آف اسٹریٹجی اینڈ ایویڈنس—انوسینٹی، ای سی پی اے ٹی انٹرنیشنل اور انٹرپول نے کی، جبکہ مالی معاونت سیف آن لائن نے فراہم کی۔ پاکستان میں رپورٹ نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کے تعاون سے جاری کی گئی۔ اس میں 12 سے 17 سال کے بچوں اور ان کے والدین یا نگہداشت کرنے والوں کے قومی سطح کے گھریلو سروے، فرنٹ لائن اور نظامِ انصاف سے وابستہ پیشہ ور افراد کے انٹرویوز، اور ملکی قوانین و پالیسیوں کے تجزیے کو یکجا کیا گیا۔
رپورٹ میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے استحصال سے مراد صرف ایسی بدسلوکی نہیں جو مکمل طور پر آن لائن واقع ہو۔ اس میں وہ صورتیں بھی شامل ہیں جہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارم رابطہ قائم کرنے، دباؤ ڈالنے، مواد بنانے یا پھیلانے، یا آن لائن سے جسمانی دنیا تک استحصال بڑھانے کے لیے استعمال ہوں۔ تحقیق نے جنسی بلیک میلنگ، دھمکی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ استحصالی مواد کو ابھرتے خطرات میں شمار کیا ہے۔
اعداد کے مطابق متاثرہ بچوں کی بیان کردہ نصف سے زیادہ، یعنی 57 فیصد، صورتیں کسی شخص کے سامنے ظاہر نہیں کی گئیں۔ سروے میں شامل متاثرہ بچوں میں سے کسی نے بھی ہیلپ لائن، سماجی کارکن یا پولیس جیسے رسمی راستے پر رپورٹ نہیں کی۔ تحقیق نے خوف، سماجی بدنامی، متاثرہ فرد کو الزام دینے کے رویے، خاندانی ردِعمل اور پولیس پر محدود اعتماد کو مدد تک رسائی میں اہم رکاوٹیں بتایا۔ یہ خاموشی جرم کی ذمہ داری بچے پر منتقل نہیں کرتی؛ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ بدسلوکی کی ذمہ داری مرتکب اور ناکافی حفاظتی نظام پر ہے۔
تحقیق کے مطابق لڑکے اور لڑکیاں قریب قریب شرح سے متاثر ہوئے، مگر ان کے تجربات اور رپورٹ کرنے میں درپیش دباؤ مختلف ہوسکتے ہیں۔ خصوصاً لڑکوں کے لیے مردانگی سے جڑی سماجی توقعات انہیں متاثرہ فرد تسلیم کیے جانے یا مدد مانگنے سے روک سکتی ہیں۔ یونیسف نے بچوں کو صرف خطرات سے بچنے کا مشورہ دینے کے بجائے ایسے نظام بنانے پر زور دیا ہے جو استحصال روکیں، مرتکب افراد اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کا احتساب کریں اور بچوں کو محفوظ و بااعتماد رپورٹنگ مہیا کریں۔
رپورٹ نے پاکستان کے قانونی فریم ورک میں موجود تحفظات کے ساتھ خلا کی بھی نشان دہی کی۔ اس کے مطابق پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ آن لائن گرومنگ اور بچوں کو ناپسندیدہ جنسی مواد دکھانے سمیت متعدد اعمال کو جرم قرار دیتا ہے، مگر بدلتی ٹیکنالوجی کے مطابق اصطلاحات، محض جان بوجھ کر ایسے مواد تک رسائی اور دیگر پہلوؤں میں مزید اصلاح کی گنجائش ہے۔ یہ تحقیقی سفارشات ہیں؛ کسی قانون میں تبدیلی پارلیمانی اور حکومتی عمل کے بعد ہی نافذ ہوگی۔
رپورٹ کا اجرا مسئلے کی پیمائش اور پالیسی سفارش پیش کرتا ہے، کسی ایک سال میں پولیس سے ثابت شدہ 15 لاکھ جرائم کا اعلان نہیں۔ تحقیق خود بھی خبردار کرتی ہے کہ بدنامی اور کم رپورٹنگ کے باعث اصل پیمانہ سروے میں سامنے آنے والے تخمینے سے زیادہ ہوسکتا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا دارومدار محفوظ شکایتی راستوں، متاثرہ بچوں کے لیے خصوصی خدمات، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت، پلیٹ فارم ذمہ داری اور قانونی اصلاحات پر عملی اقدام سے ہوگا۔




