اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے پنجاب بار کونسل اور اسلام آباد بار کونسل کے نمائندوں کے ساتھ سپریم کورٹ میں مشاورتی اجلاس کیا، جس کا مقصد ملک کی عدالتی درجہ بندی کے لیے یکساں اور معیاری ای فائلنگ فریم ورک تیار کرنا تھا۔ 4 ستمبر کی یہ نشست سپریم کورٹ، تمام ہائی کورٹس اور ضلعی عدالتوں میں الیکٹرانک دستاویزات جمع کرانے کے مشترکہ نظام پر جاری مرحلہ وار مشاورت کا حصہ ہے۔
اجلاس میں مجوزہ نیشنل اسٹینڈرڈائزڈ ای فائلنگ سسٹم کا خاکہ پیش کیا گیا۔ حکام کے مطابق اسے عدالتی کارروائی کے قانونی و ضابطہ جاتی تقاضوں سے ہم آہنگ، منظم اور قواعد کا پابند پلیٹ فارم بنانے کا تصور ہے۔ اس کے مطلوبہ کاموں میں مقدمات کے کاغذات کی ڈیجیٹل جمع آوری، فائلنگ کے یکساں سانچے، کیس کی پیش رفت کا سراغ اور عدالتی سلسلے میں متحد الیکٹرانک ریکارڈ شامل ہیں۔
پنجاب بار کونسل کے فخر حیات اعوان، فیصل ملک، چوہدری قیصر مشتاق اور شاہد محمود عباسی، جبکہ اسلام آباد بار کونسل کے وائس چیئرمین چوہدری آصف عرفان اور دیگر نمائندے اجلاس میں شریک ہوئے۔ پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین چوہدری ارشد علی ہنجرا نے ویڈیو لنک کے ذریعے حصہ لیا۔ شرکا نے وکلا اور سائلین کے روزمرہ تجربے کی بنیاد پر عملی تجاویز پیش کیں۔
بار نمائندوں کی تجاویز میں معیاری فائلنگ ٹیمپلیٹس، دستاویزات کی الیکٹرانک ترسیل، کیس ٹریکنگ، فنی مدد اور تربیت، ضروری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ڈیٹا سکیورٹی شامل تھیں۔ چیف جسٹس نے بار کو نظام کا بنیادی صارف اور اہم شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیمپلیٹس اور عملی طریقہ کار بناتے وقت وکلا کی ضروریات کو شامل کرنا ضروری ہے۔ یہ تجاویز ابھی منظور شدہ حتمی خصوصیات نہیں بلکہ نظام سازی کے مشاورتی مرحلے کا حصہ ہیں۔
اجلاس میں طے کیا گیا کہ تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرار اور ہر صوبائی بار کونسل و اسلام آباد بار کونسل کے دو نامزد ارکان پر مشتمل کمیٹی معیاری ای فائلنگ ٹیمپلیٹس کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دے گی۔ اس کے بعد تیار کردہ سانچے قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی، NJPMC، کے سامنے غور اور پالیسی ہدایات کے لیے پیش کیے جائیں گے۔
تازہ پیش رفت سے ملک بھر میں یکساں ای فائلنگ نظام فوری طور پر نافذ نہیں ہوا۔ تکنیکی ڈیزائن، قانونی مطابقت، صارف کی شناخت، الیکٹرانک دستخط، عدالتی فیس، ریکارڈ محفوظ رکھنے، سائبر سکیورٹی، انٹرنیٹ سے محروم علاقوں اور کاغذی فائلنگ کے متبادل انتظامات کی مکمل تفصیل ابھی جاری نہیں کی گئی۔ ان امور کے بغیر عمل درآمد کی حتمی مدت یا لاگت کا درست تعین ممکن نہیں۔
عدلیہ نے اس منصوبے کو عدالتی عمل جدید بنانے، کارکردگی اور شفافیت بہتر کرنے اور وکلا و سائلین کے لیے رسائی آسان بنانے کے وسیع اصلاحاتی ایجنڈے سے جوڑا ہے۔ ان اہداف کا حقیقی جائزہ نظام نافذ ہونے کے بعد فائلنگ میں لگنے والے وقت، مقدمات کے ریکارڈ کی درستگی، صارفین کی معاونت، ڈیٹا تحفظ اور مختلف عدالتوں کے درمیان تکنیکی مطابقت سے ہوگا۔
4 ستمبر کی تصدیق شدہ پیش رفت پنجاب اور اسلام آباد بار کونسلوں سے باقاعدہ مشاورت اور مشترکہ کمیٹی کے ذریعے ٹیمپلیٹس حتمی بنانے کے عمل کا آگے بڑھنا ہے۔ ملک گیر نظام کی منظوری اور نفاذ آئندہ NJPMC فیصلوں اور متعلقہ عدالتوں کی انتظامی و تکنیکی تیاری سے مشروط رہے گا۔




