پیرس: یورپی خلائی ایجنسی اور جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی کے مشترکہ بیپی کولمبو مشن نے عطارد تک پہنچنے کے پیچیدہ آخری مرحلے کا آغاز کر دیا ہے۔ یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق 3 ستمبر کو مرکری ٹرانسفر ماڈیول خلائی جہاز کے باقی حصے سے کامیابی کے ساتھ الگ ہوگیا۔ اسپین کے سیبریروس اور ارجنٹائن کے مالارگوئے میں گہرے خلا کے زمینی اینٹینوں سے موصول ہونے والے سگنلز نے علیحدگی کی تصدیق کی اور ابتدائی ٹیلی میٹری میں تمام نظام معمول کے مطابق کام کرتے دکھائی دیے۔
یہ پیش رفت اس معنی میں مشن کی ’’آمد‘‘ کا آغاز ہے، مگر بیپی کولمبو ابھی عطارد کے گرد مستقل مدار میں داخل نہیں ہوا۔ سرکاری ٹائم لائن کے مطابق یورپی مرکری پلینیٹری آربیٹر اور جاپانی مرکری میگنیٹوسفیرک آربیٹر، جسے میو کہا جاتا ہے، پر مشتمل مشترکہ خلائی ڈھانچہ 21 نومبر 2026 کو سیارے کے مدار میں داخل ہوگا۔ دونوں سائنسی مدارگرد 9 اور 10 دسمبر کو ایک دوسرے سے الگ کیے جائیں گے، جبکہ باقاعدہ سائنسی مشاہدات اپریل 2027 میں شروع ہونا طے ہیں۔
مرکری ٹرانسفر ماڈیول نے 2018 میں زمین سے روانگی کے بعد دونوں سائنسی خلائی جہازوں کو اندرونی نظام شمسی میں طویل راستے پر لے جانے، برقی پروپلشن فراہم کرنے اور رفتار و سمت درست رکھنے کا کام انجام دیا۔ اپنے کردار کی تکمیل کے بعد اسے الگ کرنا مدار میں داخلے کی تیاری کا لازمی مرحلہ تھا۔ ای ایس اے نے بتایا کہ علیحدگی زمین سے 20 کروڑ کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر ہوئی، جہاں زمینی ٹیمیں حقیقی وقت میں فوری مداخلت نہیں کر سکتیں اور ہر حکم، نیویگیشن حساب اور ترتیب پہلے سے نہایت درست انداز میں تیار کرنا پڑتی ہے۔
بیپی کولمبو 20 اکتوبر 2018 کو فرانسیسی گیانا سے آریان 5 راکٹ کے ذریعے روانہ ہوا تھا۔ عطارد تک براہ راست پہنچ کر رفتار کم کرنا سورج کی شدید کشش کے باعث مشکل ہے، اس لیے مشن نے زمین، زہرہ اور عطارد کے مجموعی طور پر نو کششی فلائی بائی استعمال کیے اور اربوں کلومیٹر کا طویل خم دار سفر طے کیا۔ اب مرکری پلینیٹری آربیٹر خلائی ڈھانچے کو توانائی فراہم کرے گا اور اس کے شمسی پینل بیٹریاں چارج کر رہے ہیں۔
مشن کا مقصد پہلی مرتبہ دو الگ خلائی جہازوں کو بیک وقت عطارد کے مدار میں رکھنا ہے۔ یورپی مدارگرد سیارے کی سطح، اندرونی ساخت، کیمیائی بناوٹ اور باریک بیرونی فضا کا مطالعہ کرے گا، جبکہ جاپانی میو عطارد کے مقناطیسی میدان اور شمسی ہوا کے ساتھ اس کے تعامل کو جانچے گا۔ موجودہ کامیابی ٹرانسفر ماڈیول کی تصدیق شدہ علیحدگی تک محدود ہے؛ مدار میں داخلہ، دونوں آربیٹرز کی علیحدگی اور سائنسی مرحلہ آئندہ کے الگ اور تکنیکی طور پر حساس اقدامات ہیں۔




