اسلام آباد: نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی، نادرا، کے ڈیجیٹل پروف آف لائف نظام کے ذریعے سرکاری پنشنرز پاک آئی ڈی موبائل ایپ سے گھر بیٹھے اپنی زندہ ہونے کی تصدیق مکمل کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یہ سہولت 20 اگست 2026 کو باضابطہ طور پر شروع کی تھی، جبکہ نادرا کے ترجمان کے مطابق آغاز کے بعد ابتدائی 10 سے 12 دن میں تقریباً ایک لاکھ افراد نے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔
پہلے مرحلے میں تقریباً 31 لاکھ مستفیدین کو شامل کرنے کا ہدف ہے۔ اس دائرے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے براہ راست پنشنرز، فوجی پنشن وصول کنندگان اور بیرون ملک مقیم اہل پاکستانی شامل کیے گئے ہیں۔ ہدفی تعداد کو اب تک جاری تمام سرٹیفکیٹس نہ سمجھا جائے؛ یہ پہلے مرحلے کے ممکنہ صارفین کی مجموعی تعداد ہے، جبکہ استعمال کی ابتدائی اطلاع تقریباً ایک لاکھ افراد کی ہے۔
پروگرام کا مقصد وہ پرانا انتظامی بوجھ کم کرنا ہے جس کے تحت پنشنرز کو عموماً ہر چھ ماہ بعد بینک یا متعلقہ دفتر جا کر زندگی کا ثبوت دینا پڑتا تھا۔ معمر افراد، بیمار شہریوں، خواتین، معذور افراد اور دور دراز یا بیرون ملک رہنے والے پنشنرز کے لیے جسمانی حاضری، طویل قطار اور سفر خاص طور پر مشکل ہو سکتا تھا۔ نئی سہولت انہیں اسمارٹ فون کے ذریعے شناخت اور زندگی کی تصدیق کا متبادل راستہ دیتی ہے۔
نادرا نے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کو مفت قرار دیا ہے۔ پاک آئی ڈی ایپ میں صارف اپنی شناخت کے ساتھ متعلقہ درخواست مکمل کرتا اور چہرے یا دستیاب بایومیٹرک تصدیقی عمل سے گزرتا ہے۔ جن پنشنرز کے لیے خود موبائل استعمال کرنا ممکن نہ ہو وہ ایپ میں “بذریعہ دیگر رشتہ دار” کا آپشن استعمال کرکے قریبی خاندان کے رکن کی مدد لے سکتے ہیں۔ معاون شخص کی شمولیت پنشن کا حق منتقل نہیں کرتی؛ اصل مستفید شخص کی شناخت اور زندگی کی تصدیق پھر بھی نظام میں ضروری رہتی ہے۔
چہرے کی شناخت کو اس لیے بھی اہم قرار دیا گیا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ بعض افراد کے فنگر پرنٹس مدھم ہو جاتے ہیں اور روایتی انگوٹھا تصدیق ناکام ہو سکتی ہے۔ سرکاری افتتاحی تقریب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ بینکوں کو آگاہ کیا جائے گا کہ محض فنگر پرنٹ تصدیق نہ ہونے کی وجہ سے کسی پنشنر کی ادائیگی بند نہ کی جائے۔ اس ہدایت کے عملی نفاذ کا انحصار بینکوں کے نظام، پنشن ریکارڈ اور متبادل شناختی جانچ کے طریقۂ کار پر ہو گا۔
نادرا کے مطابق ڈیجیٹل تصدیق مرکزی شناختی ریکارڈ کے ساتھ کی جاتی ہے اور کامیاب عمل کے بعد سرٹیفکیٹ متعلقہ پنشن نظام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ہر پنشن ادارے اور بینک کے باہمی انضمام، ریکارڈ اپ ڈیٹ ہونے کے وقت اور ناکام تصدیق کی صورت میں دستی طریقے کی تفصیل مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے کسی صارف کو ایپ میں کامیابی کے باوجود ادائیگی کا مسئلہ آئے تو اسے متعلقہ بینک، پنشن دفتر یا نادرا کی سرکاری شکایت سہولت سے رجوع کرنا ہو گا۔
ڈیجیٹل سہولت جسمانی مراکز کو لازماً مکمل طور پر ختم نہیں کرتی۔ اسمارٹ فون، انٹرنیٹ یا ڈیجیٹل مہارت نہ رکھنے والے شہریوں، شناختی ریکارڈ میں فرق رکھنے والوں اور چہرہ تصدیق ناکام ہونے والے صارفین کے لیے معاون یا متبادل چینل برقرار رکھنا ضروری ہے۔ حکومت نے نظام کو سہولت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن قابل رسائی نفاذ کے لیے ہیلپ ڈیسک، واضح اردو ہدایات اور شکایت کے بروقت ازالے کی اہمیت برقرار رہے گی۔
اس نظام میں حساس شناختی معلومات استعمال ہوتی ہیں، اس لیے پنشنرز کو صرف نادرا کی سرکاری پاک آئی ڈی ایپ اور سرکاری رابطہ ذرائع استعمال کرنے چاہئیں۔ کسی نامعلوم شخص کو شناختی کارڈ، پاس ورڈ، ون ٹائم کوڈ یا چہرے کی ویڈیو دینا مالی اور شناختی فراڈ کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ نادرا کی طرف سے سرٹیفکیٹ مفت ہونے کے باعث غیر سرکاری ایجنٹ کو فیس دینے کا دعویٰ بھی مشکوک سمجھا جانا چاہیے۔
ابتدائی ایک لاکھ استعمال کنندگان نظام کی قبولیت کا پہلا اشارہ ہیں، مگر کامیابی کا مکمل جائزہ 31 لاکھ ہدفی پنشنرز میں رسائی، تصدیق کی ناکامی کی شرح، بینکوں کے ساتھ ریکارڈ کے تبادلے، ادائیگی رکنے کی شکایات اور معمر و معذور صارفین کے تجربے سے لیا جائے گا۔ نادرا اور وزارت خزانہ کی جانب سے باقاعدہ استعمال اور شکایت کے اعداد جاری ہونے پر پتا چلے گا کہ ڈیجیٹل پروف آف لائف نے جسمانی سفر اور ادائیگی میں رکاوٹ کتنی کم کی۔




