اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، پی ٹی اے، نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کو بتایا ہے کہ گزشتہ تقریباً ڈھائی سال میں ایک کروڑ 82 لاکھ موبائل سمز بلاک کی گئیں اور ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں پر موبائل آپریٹرز کو مجموعی طور پر 4.5 ارب روپے کے جرمانے کیے گئے۔ یہ اعداد 3 ستمبر کو راجہ خرم شہزاد نواز کی زیر صدارت کمیٹی اجلاس میں پیش کیے گئے۔
سم بلاک ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر متعلقہ صارف کسی جرم میں سزا یافتہ قرار پایا۔ کنکشن جعلی، غیر مجاز، نامکمل تصدیق، غلط شناخت یا دوسرے ضابطہ جاتی سبب سے بند کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح 4.5 ارب روپے کے جرمانوں کی کمپنی وار تفصیل، ہر حکم کی تاریخ، اپیل کی موجودہ حالت اور وصول شدہ رقم کا الگ مکمل جدول اجلاس کی شائع شدہ رپورٹوں میں فراہم نہیں کیا گیا۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے، کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک کارروائی کے دوران تقریباً چھ لاکھ شہریوں کے فنگر پرنٹس اور بایومیٹرک معلومات برآمد ہوئیں۔ یہ عدد ایجنسی کی بریفنگ پر مبنی ہے؛ اس ڈیٹا کے ماخذ، ہر ریکارڈ کی منفرد حیثیت، متاثرہ افراد کو دی گئی اطلاع اور فورنزک جانچ کی مکمل عوامی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔
کمیٹی کو ایک الگ کیس میں بتایا گیا کہ فیصل آباد سے گرفتار ایک مشتبہ شخص کے قبضے سے 195 فعال سمز، 16 اسمارٹ فون اور مختلف بینکوں کے 81 اے ٹی ایم کارڈ ملے۔ ضبطی اور گرفتاری تفتیشی مراحل ہیں، جرم ثابت ہونے کا عدالتی فیصلہ نہیں۔ دستیاب رپورٹوں میں ملزم کا مؤقف، فرد جرم یا مقدمے کا حتمی نتیجہ شامل نہیں ہے۔
حکام نے الزام عائد کیا کہ بعض موبائل کمپنی ملازمین صارفین کا ڈیٹا لیک کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ کسی مخصوص ملازم یا کمپنی کے خلاف ثابت شدہ عدالتی نتیجہ اجلاس کی رپورٹ میں بیان نہیں کیا گیا، اس لیے اس دعوے کو ادارہ جاتی الزام اور تحقیقاتی مؤقف کے طور پر ہی دیکھا جائے گا۔ پی ٹی اے، متعلقہ کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ذمہ داری ہو گی کہ وہ رسائی کے ریکارڈ، داخلی نگرانی اور قانونی کارروائی کی قابل جانچ تفصیل فراہم کریں۔
این سی سی آئی اے حکام نے راجن پور کا ایک واقعہ بھی مثال کے طور پر پیش کیا، جہاں ان کے مطابق ایک خاتون کا انگوٹھا راشن دینے کے بہانے لگوایا گیا اور اس بایومیٹرک معلومات سے حاصل شدہ سم بعد میں دہشت گردی میں استعمال ہوئی۔ اس مخصوص واقعے کی آزادانہ تصدیق اور عدالتی فیصلہ عام نہیں کیا گیا؛ لہٰذا اسے کمیٹی میں پیش کردہ سرکاری دعویٰ سمجھنا چاہیے۔
ایجنسی نے کہا کہ چوری شدہ بایومیٹرک معلومات اور غیر قانونی سمز وسیع پیمانے پر مالی فراڈ، اکاؤنٹ تک غیر مجاز رسائی اور واٹس ایپ ہیکنگ میں استعمال ہو رہی ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایک ابھرتے ہوئے طریقے کی نشاندہی کی جسے انہوں نے “رینٹ اے بینک اکاؤنٹ” کہا، جس میں اکاؤنٹ رکھنے والا مبینہ طور پر معاوضے یا ناجائز رقم کے حصے کے بدلے اپنا اکاؤنٹ مجرموں کو استعمال کرنے دیتا ہے۔ ایسے مقدمات میں رضامندی، علم اور مالی فائدے کا تعین تفتیش اور عدالت میں ثبوت سے ہوتا ہے۔
این سی سی آئی اے نے سم جاری کرنے کے عمل میں چہرے اور آنکھ کی پتلی، آئرس، کی شناخت شامل کرنے، نئی سم جاری ہوتے ہی اصل شناختی کارڈ حامل کو فوری پیغام بھیجنے، نگرانی بڑھانے اور پی ٹی اے، نادرا، بینکوں، موبائل آپریٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط بنانے کی سفارش کی۔ یہ تجاویز ہیں؛ اجلاس کی رپورٹ میں ان سب کے فوری نفاذ، بجٹ یا حتمی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔
کمیٹی نے وزارت داخلہ، پی ٹی اے اور موبائل آپریٹرز کو مسائل کا حل تیار کرکے دوبارہ رپورٹ دینے کی ہدایت کی۔ اس نے شہریوں کی بایومیٹرک، ٹیلی کام اور بینکاری معلومات کے تحفظ کے لیے سائبر سکیورٹی اقدامات مضبوط کرنے پر بھی زور دیا۔ پالیسی کے اگلے قابل پیمائش نتائج میں کمپنی وار جرمانوں کی وصولی، مشتبہ سمز کی درجہ بندی، متاثرہ شہریوں کو اطلاع، ڈیٹا لیک کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور نئے تصدیقی نظام کے نفاذ کی تفصیل شامل ہو گی۔
اجلاس میں سامنے آنے والے اعداد مسئلے کے حجم کو ظاہر کرتے ہیں، مگر مستقل حل صرف بڑی تعداد میں سمز بند کرنے سے نہیں ہو گا۔ شناختی معلومات تک داخلی رسائی کی نگرانی، فرنچائز اور آپریٹر سطح پر جواب دہی، بینک اکاؤنٹ اور سم کے رابطے کی محفوظ تصدیق، اور متاثرہ شہریوں کے لیے تیز شکایت و ازالہ نظام ضروری ہو گا۔




