واشنگٹن: امریکی فوج کی مختلف شاخوں نے متعدد سرکاری موبائل فونز اور کمپیوٹرز پر اشتہاری شناخت کار، موبائل ایڈورٹائزنگ آئی ڈیز یا MAIDs، غیر فعال کر دیے ہیں۔ یہ پیش رفت ان فوجی اطلاعات کے بعد سامنے آئی جن کے مطابق تجارتی طور پر دستیاب مقام کے ڈیٹا کو مشرق وسطیٰ میں امریکی اہلکاروں کی نگرانی یا ہدف بندی کے لیے استعمال کیا گیا۔ ہدف بندی کی مخصوص کارروائیوں، ذمہ دار فریقوں یا ان کے نتائج کی مکمل عوامی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔
رائٹرز کے مطابق امریکی سینیٹر رون وائیڈن کی جانب سے جاری خطوط اور فوجی حکام کے بیانات میں اقدامات کی الگ الگ ٹائم لائن سامنے آئی۔ امریکی فضائیہ نے بتایا کہ اس نے دو ماہ قبل کمپیوٹرز اور موبائل فونز پر اشتہاری شناخت کار بند کیے۔ امریکی اسپیشل آپریشنز کمانڈ نے ایک الگ خط میں کہا کہ اس نے حال ہی میں اپنے ونڈوز آلات پر یہ شناخت کار غیر فعال کیے، جبکہ آرمی نے بتایا کہ موبائل آلات سے منسلک ایڈورٹائزنگ آئی ڈیز رواں سال کے آغاز سے بند ہیں۔
آرمی کی مزید وضاحت کے مطابق اس کے ونڈوز کمپیوٹرز پر اشتہاری آئی ڈیز 2021 سے پہلے ہی بلاک تھیں، مگر اینڈرائیڈ اور ایپل موبائل آلات پر انہیں کم از کم فروری 2026 سے بطور ڈیفالٹ غیر فعال کیا گیا۔ آرمی اور نیوی کے خطوط میں بھی فوجی آلات پر ایڈورٹائزنگ آئی ڈیز بند کرنے کا ذکر تھا، تاہم نیوی نے رائٹرز کی اضافی سوالات کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔ مختلف شاخوں کے آلات اور انتظامی نظام الگ ہونے کے باعث ایک ہی تاریخ پورے امریکی محکمہ دفاع پر لاگو نہیں ہوتی۔
موبائل ایڈورٹائزنگ آئی ڈی ایک منفرد شناختی کوڈ ہوتا ہے جو کسی مخصوص فون یا دوسرے آلے سے منسلک کیا جا سکتا ہے۔ اشتہاری کمپنیاں اسے مختلف ایپس میں صارف کی سرگرمی سمجھنے اور اشتہار دکھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ جب ایپس یا خدمات مقام کی معلومات بھی جمع کریں تو ڈیٹا بروکر مختلف ذرائع کے ریکارڈ ملا کر کسی آلے کی نقل و حرکت یا بار بار آنے والے مقامات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اسی تجارتی نظام نے فوجی تنصیبات اور اہلکاروں کے لیے قومی سلامتی کا خطرہ پیدا کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپریل میں سینیٹر وائیڈن کو بتایا تھا کہ اسے ایسے متعدد خطراتی انتباہات ملے جن میں مخالف عناصر کی جانب سے تجارتی مقام ڈیٹا استعمال کرکے جنگی علاقے میں امریکی اہلکاروں کی نگرانی یا ہدف بندی کا ذکر تھا۔ یہ سرکاری خطراتی رپورٹس ہیں؛ پینٹاگون نے ہر اطلاع کے شواہد، کسی خریدے گئے ڈیٹاسیٹ، حملے یا متاثرہ اہلکار کی شناخت عوامی طور پر جاری نہیں کی۔
ڈیموکریٹ سینیٹر رون وائیڈن اور ری پبلکن رکنِ ایوان نمائندگان پیٹ ہیریگن نے پینٹاگون سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا فوج نے مقام ڈیٹا کی تجارت سے پیدا خطرات کے مقابلے کے لیے بروقت اور کافی حفاظتی اقدامات کیے۔ وائیڈن نے کہا کہ موجودہ کوششیں خطرہ مکمل طور پر ختم کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوئیں، جبکہ سابق اسپیشل فورسز افسر ہیریگن نے تجارتی ادائیگی کے ذریعے فوجی اہلکاروں کی معلومات خریدے جانے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ پینٹاگون نے کہا کہ وہ قانون سازوں کو براہ راست جواب دے گا۔
اشتہاری شناخت کار بند کرنا ڈیٹا کے اخراج کا ایک راستہ محدود کرتا ہے، مگر اس سے ہر طرح کی مقام ٹریکنگ ختم نہیں ہوتی۔ پرائیویسی ٹیکنالوجی ماہر زیک ایڈورڈز نے اس قدم کو مثبت قرار دیا، لیکن خبردار کیا کہ بعض ایپس، نیٹ ورک ریکارڈ، آلے کی تکنیکی خصوصیات اور دوسری مقام معلومات ملا کر کسی شخص یا آلے کا سراغ لگانے کے پیچیدہ طریقے اب بھی ممکن ہیں۔
فوجی اہلکاروں کے ذاتی فون بھی الگ مسئلہ ہیں۔ کسی سرکاری آلے پر MAID بند ہونے سے اہلکار کے ذاتی موبائل، ایپس کی اجازتوں، تصاویر میں مقام کی معلومات، وائی فائی یا سیلولر نیٹ ورک کے ریکارڈ خود بخود محفوظ نہیں ہو جاتے۔ مؤثر تحفظ کے لیے آلہ جاتی سیٹنگز کے ساتھ مقام شیئرنگ، ایپ تنصیب، براؤزر، ذاتی فون کے استعمال، ڈیٹا بروکرز اور حساس مقامات کے قواعد درکار ہوں گے۔
موجودہ اعلان ایک حفاظتی اقدام کی تصدیق ہے، نہ کہ اس بات کی ضمانت کہ امریکی فوج سے متعلق تمام تجارتی مقام ڈیٹا مٹ چکا ہے یا آئندہ حاصل نہیں ہو سکے گا۔ اگلے قابل تصدیق مراحل پینٹاگون کی تحقیقات، تمام سروس شاخوں کی یکساں پالیسی، ذاتی اور سرکاری آلات کے ضابطے، ڈیٹا بروکرز سے خرید و فروخت کی نگرانی اور کسی ثابت شدہ خلاف ورزی کے خلاف قانونی یا انتظامی کارروائی ہوں گے۔




