سندھ حکومت اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صنعتی ترقی (یونیڈو) نے صوبے میں جامع دیہی ترقی، موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والے انفراسٹرکچر اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے تعاون گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ڈان کے مطابق یونیڈو صوبے کے لیے ایک مخصوص پانچ سالہ ترقیاتی پروگرام کی خاطر بین الاقوامی ڈونرز اور سرمایہ کاروں سے تقریباً 4 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت جمع کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

یہ پیش رفت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور یونیڈو کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل اور منیجنگ ڈائریکٹر فاتو حیدارا کے درمیان وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کے بیان کے مطابق مجوزہ پروگرام یونیڈو کے پروگرام فار کنٹری پارٹنرشپ 2025-2030 کے تحت ترتیب دیا جائے گا اور اس میں جامع اقتصادی ترقی، موسمیاتی مزاحم بنیادی ڈھانچے اور روزگار پیدا کرنے پر توجہ ہوگی۔

تقریباً 4 کروڑ ڈالر کی رقم اس مرحلے پر یونیڈو کی جانب سے عالمی ڈونرز اور سرمایہ کاروں سے وسائل متحرک کرنے کا ہدف ہے؛ اسے مکمل طور پر موصول شدہ یا خرچ شدہ فنڈ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ پروگرام کے عملی حجم، انفرادی منصوبوں، مالی شراکت داروں اور فنڈز کے اجرا کی تفصیلات وسائل کے حصول اور بعد کی منظوریوں کے ساتھ واضح ہوں گی۔

سندھ کو سیلاب، شدید گرمی، پانی کی قلت، ساحلی خطرات اور زرعی پیداوار پر موسمیاتی اثرات جیسے متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں دیہی معیشت اور بنیادی ڈھانچے میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانا صوبائی ترقی کے لیے اہم ہے۔ مجوزہ تعاون میں صنعت اور روزگار کے پہلو کو شامل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ موسمیاتی منصوبے صرف ہنگامی ردعمل تک محدود نہ رہیں بلکہ مقامی آمدن اور کاروباری سرگرمی میں بھی بہتری لائیں۔

یونیڈو کا پروگرام فار کنٹری پارٹنرشپ حکومتوں، ترقیاتی اداروں اور نجی شعبے کو صنعتی اور اقتصادی ترقی کے اہداف کے گرد جمع کرنے کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔ سندھ کے لیے زیر غور پانچ سالہ پروگرام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اعلان کردہ 4 کروڑ ڈالر میں سے کتنی مالی معاونت واقعی حاصل ہوتی ہے، منصوبوں کا انتخاب کس بنیاد پر کیا جاتا ہے اور دیہی آبادی کے لیے روزگار، انفراسٹرکچر اور موسمیاتی تحفظ کے قابل پیمائش نتائج کس حد تک حاصل ہوتے ہیں۔