واشنگٹن: امریکی انتظامیہ افریقہ میں ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کے شعبے میں چین کی ہواوے کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے افری سیل کو تقریباً 10 کروڑ ڈالر قرض دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ رائٹرز نے معاملے سے واقف ایک شخص اور ایک مسودہ پریس ریلیز کے حوالے سے بتایا کہ قرض امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذریعے فراہم کیا جائے گا۔
مسودے کے مطابق مالی معاونت افری سیل کو امریکی اور اتحادی ممالک کے سپلائرز سے جدید موبائل نیٹ ورک ٹیکنالوجی حاصل کرنے اور اپنے آپریٹنگ ممالک میں مواصلاتی ڈھانچہ بہتر بنانے میں مدد دے گی۔ افری سیل انگولا، گیمبیا، جمہوریہ کانگو اور سیرا لیون میں کام کرتی ہے اور کمپنی کے مطابق اس کے صارفین کی تعداد تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ منصوبہ واشنگٹن کی اس وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت بیرون ملک غیر ہواوے ٹیلی کام آلات اور امریکی ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ امریکی حکومت ہواوے پر قومی سلامتی سے متعلق الزامات عائد کرتی رہی ہے اور کمپنی پر متعدد پابندیاں لگا چکی ہے۔ ہواوے ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ تازہ رپورٹ پر ہواوے اور واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے حوالے سے رائٹرز نے بتایا کہ افریقہ میں 5G انفراسٹرکچر کی مارکیٹ میں ہواوے کا حصہ تقریباً 52 فیصد ہے۔ اسی لیے ٹیلی کام نیٹ ورکس افریقہ میں امریکا اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی مسابقت کا اہم میدان بن چکے ہیں۔ افری سیل نے ماضی میں ایچ پی، نوکیا، ڈیل اور اوریکل سمیت مختلف کمپنیوں سے ٹیکنالوجی حاصل کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ قرض 2025 کے ایک امریکی صدارتی حکم سے بھی مطابقت رکھتا ہے جس میں سرکاری اداروں کو مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹر اسٹوریج، کلاؤڈ سروسز اور نیٹ ورکنگ سمیت امریکی ٹیکنالوجی کو بیرون ملک فروغ دینے کی ہدایت کی گئی تھی۔ افری سیل اس سے پہلے 2018 میں بھی امریکی ترقیاتی مالیاتی ادارے سے 10 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت حاصل کر چکی ہے۔
چونکہ تازہ قرض سے متعلق معلومات ایک مسودہ اعلامیے اور ذرائع پر مبنی ہیں، اس لیے اس کی حتمی شرائط باضابطہ اعلان میں واضح ہوں گی۔ تاہم منصوبہ افریقہ کے تیزی سے بڑھتے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں جغرافیائی و تکنیکی مسابقت کی سمت کو نمایاں کرتا ہے۔




