ویانا/جنیوا: امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز میں ایک قرارداد پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس کے ذریعے ایران کے جوہری معاملے سے متعلق موجودہ اور سابقہ فیصلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے جا سکیں۔ سفارت کاروں اور خبر رساں ادارے کے دیکھے گئے مجوزہ متن کے مطابق چاروں ممالک اگلے ہفتے 35 رکنی بورڈ سے اس معاملے پر ووٹ چاہتے ہیں۔
مسودہ ابھی بورڈ میں باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوا اور اس کی حتمی عبارت پر مذاکرات جاری ہیں۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو قرارداد کی منظوری، ایران کی باقاعدہ حوالگی یا سلامتی کونسل کی کارروائی نہیں کہا جا سکتا۔ پہلے متن جمع ہوگا، پھر بورڈ بحث اور ممکنہ ووٹ کرے گا، اور صرف منظوری کی صورت میں ڈائریکٹر جنرل سے متعلق دستاویزات آگے بھیجنے کی درخواست مؤثر ہوگی۔
دستیاب مسودے میں IAEA کے ڈائریکٹر جنرل سے کہا گیا ہے کہ نئی قرارداد اور پہلے منظور کی گئی متعلقہ قراردادیں ایجنسی کے تمام رکن ممالک، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کو منتقل کی جائیں۔ اگر یہ متن منظور ہو گیا تو تقریباً دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ IAEA بورڈ ایران کے معاملے کو اس انداز سے سلامتی کونسل کے سامنے لانے کی سمت بڑھے گا۔
مسودہ ایران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے Safeguards Agreement سے متعلق بورڈ کے بیان کردہ عدم تعمیل کے نکات فوری دور کرے اور ایسے اقدامات کرے جن سے IAEA کے ڈائریکٹر جنرل ایرانی اعلانات کی درستگی اور مکمل ہونے کے بارے میں ضروری یقین دہانی فراہم کر سکیں۔ “عدم تعمیل” مجوزہ قرارداد اور سابقہ بورڈ فیصلوں کی قانونی و سفارتی اصطلاح ہے؛ ایران کے خلاف کسی نئے فوجداری عدالتی فیصلے کا نام نہیں۔
یہ پیش رفت 12 جون 2025 کی اس IAEA بورڈ قرارداد کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ایران کو غیر اعلان شدہ مقامات پر یورینیم کے آثار کی تحقیقات میں مکمل تعاون نہ کرنے کے باعث جوہری عدم پھیلاؤ سے متعلق ذمہ داریوں کی خلاف ورزی میں قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعد بورڈ نے ایران سے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی مکمل تفصیل اور معائنہ کاروں کو تصدیقی رسائی دینے کے مطالبات پر مشتمل مزید فیصلے بھی منظور کیے۔
معتبر رپورٹنگ کے مطابق اسرائیلی اور امریکی حملوں میں متاثر ہونے والی ایرانی جوہری تنصیبات تک IAEA معائنہ کاروں کی واپسی اور وہاں موجود مواد کی آزاد تصدیق ابھی مکمل نہیں ہو سکی۔ ایجنسی اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے باقی ذخائر، جن میں بعض مواد 60 فیصد تک افزودہ بتایا گیا، کی مقدار اور مقام کی تصدیق ضروری ہے۔ یہ اعداد اور تشویش IAEA و متعلقہ حکومتوں کے مؤقف سے منسوب ہیں؛ موجودہ مسودہ خود کسی ہتھیار کی تیاری کا حتمی ثبوت پیش نہیں کرتا۔
بورڈ کی ممکنہ قرارداد منظور ہونے کے بعد بھی سلامتی کونسل کو الگ طریقۂ کار اختیار کرنا ہوگا۔ وہ بحث، بیان، نئی قرارداد یا کسی اور اقدام پر غور کر سکتی ہے، لیکن IAEA بورڈ کی رپورٹ خود بخود اقوام متحدہ کی پابندیاں نافذ نہیں کرتی۔ روس اور چین سلامتی کونسل کے مستقل اور ویٹو رکھنے والے ارکان ہیں، اس لیے کسی ٹھوس کونسل اقدام کا نتیجہ پہلے سے طے شدہ نہیں۔
چاروں مغربی ممالک نے حالیہ برسوں میں ایران کے خلاف IAEA بورڈ میں پیش کیے گئے اپنے مسودوں کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کی ہے، مگر یہ سابقہ ریکارڈ آئندہ ووٹ کی ضمانت نہیں۔ بورڈ کے ہر رکن کو موجودہ متن، سفارتی مذاکرات اور اپنے قومی مؤقف کی بنیاد پر ووٹ دینا ہوگا۔ ایران کا باضابطہ تازہ جواب سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی الگ مؤقف کے طور پر دیکھا جائے گا۔
اس وقت تصدیق شدہ نتیجہ صرف یہ ہے کہ امریکا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی ایک مجوزہ قرارداد پر کام کر رہے ہیں، متن باضابطہ طور پر جمع نہیں ہوا اور مذاکرات جاری ہیں۔ ایران کو سلامتی کونسل رپورٹ کرنے، قرارداد کی حتمی عبارت اور کسی ممکنہ اقوام متحدہ اقدام کا فیصلہ آئندہ مراحل میں ہوگا۔




