رام اللہ: اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کی فلسطینی آبادی کو تحفظ اور سلامتی فراہم کرنا اسرائیلی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یہ بیان رام اللہ کے شمال مشرق میں واقع فلسطینی قصبے ترمس عیا کے دورے کے دوران دیا، جہاں انہوں نے فلسطینی نژاد امریکی شہریوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں ہلاک ہونے والے امریکی شہریوں کے خاندانوں سے ملاقات کی۔ یہ سفارتی بیان ہے؛ اس کے ساتھ کسی نئی پابندی، حفاظتی فورس یا قانونی کارروائی کا الگ اعلان نہیں کیا گیا۔
ہکابی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان آبادیوں کے لوگوں کو محفوظ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور امریکی حکومت اسرائیلی حکام کو یہ پیغام دیتی رہے گی کہ اس حق کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا دورہ ایسے وقت ہوا جب مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکار حملوں میں تیزی کی اطلاعات ہیں۔ سفیر نے ماضی میں بھی پرتشدد آبادکاروں کے خلاف مقدمات چلانے کی حمایت کی ہے، اگرچہ وہ اسرائیلی بستیوں کے دیرینہ حامی سمجھے جاتے ہیں۔
ترمس عیا کے میئر نواف زغول نے ملاقات سے پہلے کہا کہ قصبے کو آبادکاروں کے مسلسل حملوں، گھروں کو نقصان پہنچانے اور مقامی حدود میں داخل ہونے کے واقعات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً تین ہزار آبادی والے قصبے کے قریب 80 فیصد رہائشی فلسطینی نژاد امریکی ہیں۔ یہ تعداد اور حملوں کی نوعیت مقامی انتظامیہ کا بیان ہے؛ ہر واقعے کی الگ پولیس، عدالتی یا آزاد تحقیق دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں تھی۔
مقامی رہائشیوں نے امریکی سفیر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حکام پر شہریوں کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ قصبے کے اطراف کئی اسرائیلی بستیاں قائم ہیں، اور رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مسلح یا شدت پسند آبادکاروں کو روکنے اور ان کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی میں مسلسل ناکامی ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں پر حملوں کے ملزم اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف مقدمات کم ہی حتمی نتیجے تک پہنچتے ہیں۔ کسی مخصوص زیرِ تحقیق شخص کو عدالتی فیصلے کے بغیر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔
امریکی سفیر نے آبادکاروں کی مجموعی آبادی، جو تقریباً سات لاکھ پچاس ہزار بتائی جاتی ہے، اور تشدد میں ملوث افراد کے درمیان فرق کرتے ہوئے کہا کہ پرتشدد عناصر اقلیت ہیں۔ یہ ان کا سیاسی اور سفارتی اندازہ ہے۔ فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کے ادارے آبادکاری کے پھیلاؤ، سکیورٹی فورسز کے کردار اور حملوں میں جواب دہی کی کمی کو زیادہ وسیع اور منظم مسئلہ قرار دیتے رہے ہیں۔ دستیاب تازہ خبر میں اسرائیلی حکومت کا ترمس عیا کے مخصوص الزامات پر نیا تفصیلی جواب شامل نہیں تھا۔
ہکابی نے غزہ سے فلسطینیوں کو ان کی مرضی کے خلاف نکالنے کے کسی اسرائیلی منصوبے کی بھی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی جبری منتقلی کا کوئی منصوبہ زیرِ عمل نہیں، حالانکہ بعض اسرائیلی وزرا نے غزہ کی آبادی کو باہر منتقل کرنے سے متعلق تجاویز یا تصورات بیان کیے ہیں۔ سفیر کی تردید امریکی نمائندے کا بیان ہے؛ یہ اسرائیلی کابینہ کے ہر رکن کے مؤقف یا مستقبل کی پالیسی کی قانونی ضمانت نہیں۔
اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک مغربی کنارے کو مقبوضہ علاقہ اور وہاں قائم اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے منافی سمجھتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت اس خطے کو مقبوضہ کے بجائے متنازع قرار دیتی ہے۔ ہکابی مغربی کنارے کے لیے اکثر اسرائیلی اور بائبلی اصطلاح ’’یہودا و سامریہ‘‘ استعمال کرتے ہیں، لیکن یہ امریکی حکومت کی رسمی جغرافیائی اصطلاح نہیں۔ اس اختلاف سے زمین، خودمختاری اور مستقبل کی فلسطینی ریاست سے متعلق بنیادی سیاسی تنازع واضح ہوتا ہے۔
سفیر نے جون 2025 میں مسیحی اکثریتی فلسطینی گاؤں طیبہ کا دورہ بھی کیا تھا، جہاں ایک چرچ کو نقصان پہنچانے کے واقعے کے بعد انہوں نے عبادت گاہ کی بے حرمتی کو دہشت گردی اور جرم قرار دیا تھا۔ تازہ دورہ امریکی شہریوں سے تعلق رکھنے والی فلسطینی آبادیوں کے تحفظ پر بڑھتی سفارتی توجہ دکھاتا ہے، مگر اس کا عملی اثر اسرائیلی تفتیش، گرفتاریاں، مقدمات، فوجی و پولیس تحفظ اور حملوں میں حقیقی کمی سے ناپا جائے گا۔
فی الحال قابل تصدیق نتیجہ یہ ہے کہ امریکی سفیر نے اسرائیل کی ذمہ داری تسلیم کرتے ہوئے مقامی فلسطینی امریکیوں کی شکایات سنیں۔ یہ بیان آبادکار تشدد کے مسئلے پر ایک نمایاں سفارتی اشارہ ضرور ہے، مگر اس کے نتیجے میں کسی نئی نافذ پالیسی یا جواب دہی کے طریقہ کار کی تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔




