واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کے لیے جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن اور توسیعی فاصلے کی متعلقہ صلاحیتوں پر مشتمل تقریباً 5 ارب ڈالر کے ممکنہ فوجی فروخت پیکیج کی منظوری دے کر کانگریس کو باضابطہ نوٹیفکیشن بھیج دیا ہے۔ یہ Foreign Military Sale کی مجوزہ منظوری ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حتمی تجارتی معاہدہ ہو چکا، پوری رقم ادا ہو گئی یا سامان سعودی عرب پہنچا دیا گیا ہے۔
امریکی سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق سعودی عرب نے 5,004 KMU-572 اور 5,000 KMU-556 JDAM گائیڈنس کٹس خریدنے کی درخواست کی ہے۔ پیکیج میں 5,004 عدد BLU-111 پانچ سو پاؤنڈ کے عمومی استعمال کے بم اور 5,000 عدد BLU-117 دو ہزار پاؤنڈ کے بم بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فیوز، ہدف شناخت کرنے والے آلات، کنٹینرز، فاضل پرزے، مرمت و دیکھ بھال، انجینئرنگ اور تکنیکی و لاجسٹک معاونت بھی مجوزہ پیکیج کا حصہ ہیں۔
JDAM بنیادی طور پر ایک گائیڈنس نظام ہے جو عمومی بموں کو زیادہ درست ہدف بندی کی صلاحیت دیتا ہے، جبکہ Extended Range قسم میں اضافی فاصلے کے لیے متعلقہ ونگ یا دیگر اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔ امریکی اعلان نے پیکیج کی مجموعی تخمینی قیمت 5 ارب ڈالر بتائی ہے، لیکن حتمی قیمت، مقدار اور فراہمی کی ترتیب مذاکرات اور ممکنہ معاہدوں کے نتیجے میں بدل سکتی ہے۔
بوئنگ کو اس مجوزہ فروخت کا بنیادی ٹھیکیدار نامزد کیا گیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا مؤقف ہے کہ یہ پیکیج سعودی عرب کی فضائی اور داخلی دفاعی صلاحیت بہتر کرے گا، موجودہ اور مستقبل کے علاقائی خطرات کے مقابل مدد دے گا اور امریکی و خلیجی افواج کے نظاموں کے ساتھ اشتراک بڑھائے گا۔ یہ واشنگٹن کی سرکاری توجیہ ہے؛ پیکیج کے علاقائی سلامتی اور انسانی اثرات پر مختلف حکومتوں اور مبصرین کے الگ مؤقف ہو سکتے ہیں۔
اسی روز امریکا نے سعودی عرب کے لیے 60 عدد AGT-1500 ٹینک انجن اور متعلقہ معاون سامان کی ایک الگ ممکنہ فروخت بھی منظور کی، جس کی تخمینی مالیت 750 ملین ڈالر ہے۔ اس دوسرے پیکیج کا بنیادی ٹھیکیدار ہنی ویل بتایا گیا ہے۔ 750 ملین ڈالر کی رقم 5 ارب ڈالر کے JDAM پیکیج میں شامل نہیں، بلکہ الگ نوٹیفکیشن اور الگ ممکنہ معاملہ ہے۔
امریکی Foreign Military Sales کے طریقۂ کار میں محکمہ خارجہ کی منظوری اور کانگریس کو نوٹیفکیشن اہم مراحل ہیں۔ مقررہ جائزہ مدت، ممکنہ قانونی اعتراضات، خریدار اور امریکی حکومت کے درمیان حتمی شرائط، پیداوار اور فراہمی کے انتظامات کے بعد ہی عملی ترسیل سامنے آتی ہے۔ اس لیے موجودہ اعلان کو مکمل شدہ فروخت یا فوری ہتھیار حوالگی کہنا درست نہیں ہوگا۔
سعودی عرب کو حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا ہے، جسے امریکی اعلان میں دفاعی ضرورت کے تناظر میں پیش کیا گیا۔ تاہم 500 اور 2,000 پاؤنڈ کے بموں اور ان کی گائیڈنس کٹس کی ممکنہ فروخت وسیع جنگی صلاحیت سے بھی متعلق ہے، اس لیے مستقبل میں ان کے استعمال، آخری صارف کی نگرانی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی پر توجہ برقرار رہے گی۔
تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے 4 ستمبر 2026 کو 5 ارب ڈالر کے مجوزہ JDAM پیکیج اور الگ 750 ملین ڈالر کے انجن پیکیج کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے کر کانگریس کو مطلع کیا۔ حتمی معاہدہ، ترسیل کی تاریخ اور اصل مالی حجم بعد کے سرکاری اور معاہداتی مراحل سے طے ہوں گے۔




