واشنگٹن/بیجنگ: مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں امریکا اور چین کے زیر قیادت الگ ٹیکنالوجی بلاکس نمایاں ہونے لگے ہیں، جس سے دنیا کے متعدد ممالک کے لیے جدید چپس، اے آئی ماڈلز، ڈیٹا سینٹر سرمایہ کاری اور تکنیکی معیارات کے معاملے میں توازن قائم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی Pax Silica اقدام جدید سیمی کنڈکٹرز، قابل اعتماد سپلائی چین اور ٹیکنالوجی شراکت داری پر زور دیتا ہے، جبکہ چین کی World AI Cooperation Organization نسبتاً کم لاگت، اوپن سورس ماڈلز اور وسیع بین الاقوامی تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔

قازقستان ان ممالک میں شامل ہے جو دونوں اطراف سے روابط برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وہ دونوں اقدامات میں شرکت کے ساتھ ڈیٹا سینٹرز اور جدید کمپیوٹنگ میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انڈونیشیا بھی امریکی اور چینی ٹیکنالوجی تک رسائی چاہتا ہے، جبکہ سنگاپور چینی اقدام میں شمولیت پر غور کر رہا ہے۔ سعودی عرب نے بھی چینی اے آئی ماڈلز اور امریکی کمپنی Nvidia کی کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کو ایک ہی وقت میں استعمال کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔

امریکا اپنی پالیسی کو قابل اعتماد ٹیکنالوجی شراکت داروں، جدید چپس اور محفوظ سپلائی چین کے تناظر میں پیش کرتا ہے اور چین پر امریکی اے آئی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے الزامات لگاتا رہا ہے۔ دوسری جانب بیجنگ امریکی برآمدی پابندیوں کو تکنیکی بالادستی برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیتا ہے اور اوپن سورس ٹیکنالوجی اور ترقی پذیر ممالک کے لیے تعاون پر زور دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین کم اور متوسط آمدنی والے کم از کم 77 ممالک میں اے آئی ترقی کے لیے مالی معاونت کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق زیادہ تر ممالک کے پاس اپنے طور پر جدید ترین فرنٹیئر اے آئی نظام تیار کرنے کے لیے درکار سرمایہ، چپس، توانائی اور تحقیقی صلاحیت نہیں ہے۔ اس وجہ سے تکنیکی خودمختاری کا ہدف محدود ہو سکتا ہے اور اہم کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی واشنگٹن اور بیجنگ کے پالیسی فیصلوں سے متاثر ہوگی۔ اگر دونوں طاقتوں کے درمیان برآمدی کنٹرول اور تکنیکی معیار مزید الگ ہوئے تو درمیانی راستہ اختیار کرنے والے ممالک کے لیے بیک وقت دونوں نظاموں سے فائدہ اٹھانا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔