واشنگٹن میں مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور اس سے وابستہ انتہائی سنگین خطرات پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی کانگریس کے متعدد ڈیموکریٹ اور ریپبلکن قانون ساز نئے حفاظتی قواعد اور نگرانی کے نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ بحث اینتھروپک سے وابستہ موجودہ اور سابق محققین کی جانب سے اس خدشے کے اظہار کے بعد بڑھی کہ مستقبل کے طاقتور اے آئی نظام انسانی معاشرے کے لیے تباہ کن نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ خدشات ماہرین کی آرا اور امکانات ہیں، کسی ثابت شدہ مستقبل کے واقعے کی پیش گوئی نہیں۔
رائٹرز کے مطابق اینتھروپک کے محقق جیکب کوکسن نے کمپنی سے استعفا دیتے ہوئے کہا کہ اے آئی بنانے والے بعض افراد اس ٹیکنالوجی سے انسانی بقا کو لاحق خطرات کو حقیقی سمجھتے ہیں۔ اینتھروپک کے سائنس دان ایون ہوبنگر نے بھی اس نوعیت کے خطرے پر تشویش ظاہر کی۔ ان بیانات کے بعد ایریزونا کے ڈیموکریٹ سینیٹر مارک کیلی نے واشنگٹن سے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے ایسے قانون کا حوالہ دیا جو اے آئی کے تباہ کن خطرات کو ریگولیٹ کرنے سے متعلق ہے۔ ریپبلکن رکنِ ایوان انا پالینا لونا نے ایوانِ نمائندگان کا خصوصی اجلاس بلانے کی تجویز دی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاہم کہا کہ انہیں اے آئی کے باعث انسانی معدومی کا خدشہ نہیں اور ان کی توجہ عالمی اے آئی مسابقت میں امریکا کی برتری پر ہے۔ اس اختلاف سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی پالیسی میں ایک طرف جدت اور عالمی مسابقت، جبکہ دوسری طرف انتہائی طاقتور ماڈلز کی حفاظت اور جواب دہی کے درمیان توازن پر بحث جاری ہے۔
سینیٹ میں اکثریتی رہنما جان تھون اور ڈیموکریٹ سینیٹر ایمی کلوبوچر ایک ایسے بل پر کام کر رہے ہیں جس میں اے آئی مصنوعات کے خطرات سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ کلوبوچر نے ماڈلز کی جانچ میں سرکاری ماہرین کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس سے قبل چھ ارکانِ کانگریس کے دو جماعتی گروپ نے بھی طاقتور ترین اے آئی ماڈلز کے آزاد سکیورٹی آڈٹ کی تجویز پیش کی تھی۔
کیلیفورنیا نے آزاد آڈیٹرز کے ذریعے اے آئی مصنوعات کی جانچ کے قواعد سے متعلق ریاستی قانون بھی منظور کیا ہے۔ اینتھروپک کا کہنا ہے کہ وہ سائبر سکیورٹی اور حیاتیات جیسے حساس شعبوں میں اپنے ماڈلز کی خطرناک صلاحیتوں کی سخت جانچ جاری رکھے گا۔ مجموعی طور پر تازہ پیش رفت کسی ایک متفقہ وفاقی ضابطے کی منظوری نہیں بلکہ امریکی سیاسی اور ٹیکنالوجی حلقوں میں حفاظتی نگرانی بڑھانے کے لیے تیز ہوتی قانون سازی کی بحث کی عکاسی کرتی ہے۔




