واشنگٹن: امریکی حکومت نے عراق، متحدہ عرب امارات، لبنان اور ترکی میں متعدد کمپنیوں اور افراد پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں جن پر واشنگٹن نے حزب اللہ اور عراق کی کتائب حزب اللہ سمیت ایران سے منسلک گروہوں کی معاونت کا الزام لگایا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے یہ اقدامات ایران کو مالی طور پر الگ تھلگ کرنے کی وسیع مہم کے حصے کے طور پر کیے ہیں۔
محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کا ہدف ایسے کاروباری اور مالی نیٹ ورکس ہیں جو مبینہ طور پر ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے لیے فنڈنگ، تجارت یا دیگر سہولت کاری فراہم کرتے ہیں۔ یہ امریکی حکومت کے الزامات اور انتظامی تعین ہیں؛ ان تمام افراد یا اداروں کے خلاف کسی عدالتی جرم کا ثابت ہونا اس کارروائی کی شرط نہیں، اور متعلقہ فریق امریکی پابندیوں کو قانونی یا سیاسی فورمز پر چیلنج کر سکتے ہیں۔
امریکی حکومت نے 24 اگست کو ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے نام سے ایک وسیع پالیسی مہم شروع کی تھی، جس کا مقصد ایران کی فوجی، سائبر اور پاسداران انقلاب سے منسلک سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل محدود کرنا بتایا گیا ہے۔ اس مہم کے تحت محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق بعض لائسنس درخواستوں پر سخت رویہ، پابندیوں سے بچنے کے مبینہ طریقوں کے خلاف کارروائی اور منی لانڈرنگ سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
تازہ پابندیوں میں کتائب حزب اللہ سے منسلک سمجھے جانے والے عناصر کے ساتھ حزب اللہ کی معاونت کے الزام میں نامزد افراد اور ادارے بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق مقصد ان گروہوں کے لیے سرحد پار مالی نقل و حرکت اور کاروباری ڈھانچوں تک رسائی محدود کرنا ہے۔ پابندیوں کے نتیجے میں امریکی دائرۂ اختیار میں آنے والے اثاثے منجمد ہو سکتے ہیں اور امریکی افراد یا کمپنیوں کے لیے نامزد فریقوں کے ساتھ بعض لین دین ممنوع ہو جاتا ہے۔
یہ اقدامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی کشیدگی، خلیج میں جہاز رانی کے خطرات اور علاقائی مسلح گروہوں کی سرگرمیوں نے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی حکام اقتصادی دباؤ کو ایران کی علاقائی صلاحیت محدود کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، جبکہ تہران ماضی میں امریکی پابندیوں کو غیر قانونی اور سیاسی دباؤ کا ہتھیار قرار دیتا رہا ہے۔
تازہ پابندیوں کے حقیقی مالی اثر کا انحصار نامزد نیٹ ورکس کے بین الاقوامی بینکنگ، تجارت اور متبادل مالی ذرائع تک رسائی پر ہوگا۔ بعض ماہرین کے مطابق پابندیوں کے مسلسل اضافے کے باوجود ایسے نیٹ ورکس نئے راستے تلاش کر سکتے ہیں، اس لیے واشنگٹن کی پالیسی کی مؤثریت کا جائزہ عملی مالی بہاؤ اور علاقائی سرگرمیوں میں تبدیلی سے ہوگا۔




