واشنگٹن: امریکا نے دو بھارتی شہریوں سے منسوب ایک کاروباری نیٹ ورک اور اس سے وابستہ کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس پر الزام ہے کہ اس نے ایران کے تیل بردار بحری جہازوں کو بین الاقوامی شناخت اور سرٹیفکیشن کے نظام میں مبینہ جعل سازی کے ذریعے امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد دی۔ امریکی محکمہ خزانہ کے بیان کے مطابق کارروائی ایک ایسے نیٹ ورک کے خلاف کی گئی جسے واشنگٹن نے ایرانی ’شیڈو فلیٹ‘ کی سرگرمیوں میں معاون قرار دیا ہے۔

محکمہ خزانہ کا دعویٰ ہے کہ متعلقہ نیٹ ورک نے ایرانی جہازوں کو مختلف ممالک کے پرچموں کے تحت چلانے اور مبینہ طور پر جعلی یا گمراہ کن بحری سرٹیفکیٹس حاصل کرنے میں سہولت فراہم کی۔ امریکی حکام کے مطابق ایسے طریقے جہاز کی حقیقی ملکیت، آپریٹر اور مال برداری کی نوعیت چھپانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ یہ تمام نکات امریکی حکومت کے الزامات ہیں؛ متعلقہ بھارتی افراد یا کمپنیوں کے خلاف کسی عدالتی فیصلے کی اطلاع اس رپورٹ میں نہیں دی گئی۔

یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن ایران کے تیل، جہاز رانی اور مالیاتی نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ان کاروباری ڈھانچوں اور ثالثوں کی مالی رسائی محدود کرنا ہے جن کے ذریعے تہران مبینہ طور پر توانائی کی برآمدات اور جہاز رانی جاری رکھتا ہے۔ پابندیوں کے نتیجے میں امریکی دائرہ اختیار میں آنے والے متعلقہ اثاثوں اور مالی مفادات پر قدغن لگ سکتی ہے اور امریکی افراد و اداروں کے لیے نامزد فریقوں کے ساتھ بعض لین دین ممنوع ہو جاتا ہے۔

بھارتی کمپنیوں اور شہریوں کا نام اس کارروائی میں آنے سے معاملے کو جنوبی ایشیا کے لیے بھی اہمیت حاصل ہوئی ہے، تاہم پابندیوں کو بھارت کی حکومت کے خلاف کارروائی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ امریکی اعلان مخصوص افراد، کمپنیوں اور مبینہ نیٹ ورک سے متعلق ہے۔ دستیاب رپورٹ میں نئی دہلی کی جانب سے فوری سرکاری ردعمل کی تفصیل شامل نہیں تھی۔

امریکا ایران سے متعلق پابندیوں کے نفاذ میں جہازوں کی رجسٹریشن، پرچم، انشورنس، سرٹیفکیشن اور ملکیتی کمپنیوں کے پیچیدہ ڈھانچوں پر توجہ بڑھاتا رہا ہے۔ تازہ اقدام اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ الزامات کی آزادانہ عدالتی جانچ یا متعلقہ فریقوں کے تفصیلی جواب سامنے آنے کی صورت میں معاملے کی قانونی حیثیت مزید واضح ہوگی۔