واشنگٹن/استنبول: امریکی محکمہ خزانہ نے ترکی کے سرمایہ کاری بینک گولڈن گلوبل یاترم بینکاسی اور اس کے دو ذیلی اداروں پر ایران سے متعلق پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (OFAC) نے تینوں اداروں کو اپنی Specially Designated Nationals فہرست میں شامل کیا۔ یہ امریکی انتظامی پابندی ہے؛ اسے کسی عدالت کی جانب سے بینک یا اس کے عہدیداروں کے خلاف فوجداری جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے الزام لگایا کہ استنبول میں قائم گولڈن گلوبل بینک نے ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس اور اس سے منسلک نیٹ ورکس کے لیے کروڑوں ڈالر مالیت کے لین دین میں سہولت دی۔ محکمے کے مطابق بینک نے ایرانی مالی اداروں کو correspondent banking تک رسائی دینے کی پیشکش کی اور ایسے اکاؤنٹس سے معاملات ممکن بنائے جو امریکی حکام کے بقول قدس فورس یا اس کے نمائندوں کے زیرِ کنٹرول تھے۔ یہ دعوے امریکی حکومت کے ہیں اور آزاد عدالتی فیصلے سے ثابت شدہ نتائج نہیں۔
پابندیوں میں گولڈن گلوبل یاترم بینکاسی کے ساتھ اثاثہ جاتی انتظام کی کمپنی گولڈن گلوبل پورٹفوئے یونیتیمی اور اثاثہ لیزنگ کمپنی گولڈن گلوبل وارلک کرالاما شامل ہیں۔ امریکی خزانہ نے کہا کہ دونوں ذیلی ادارے بینک کی ملکیت یا کنٹرول میں ہیں، اسی بنیاد پر انہیں بھی Executive Order 13902 کے تحت نامزد کیا گیا۔
محکمہ خزانہ کا مزید الزام ہے کہ بینک ایران کے ایک مبینہ shadow-banking نیٹ ورک کو چین سے حاصل ہونے والی تیل آمدن ترکی منتقل کرنے میں مدد دیتا تھا، جہاں رقوم کو منی ایکسچینجرز کے ذریعے نقدی اور سونے میں تبدیل کیا جا سکتا تھا۔ امریکی بیان نے اس نظام کو ایران کی بین الاقوامی مالی رسائی اور پابندیوں سے بچنے کی کوششوں سے جوڑا۔ خبر میں اسے امریکی الزام ہی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
گولڈن گلوبل بینک نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترکی اور بین الاقوامی بینکاری، ضابطہ کاری اور compliance تقاضوں کی پابندی کرتا ہے۔ بینک کے مطابق OFAC کے فیصلے میں نامزد افراد اور ادارے اس کے صارفین نہیں تھے اور اس نے ان کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ لین دین نہیں کیا۔ ادارے نے امریکی فیصلے کے خلاف مقامی اور بین الاقوامی قواعد کے مطابق اپنے قانونی حقوق استعمال کرنے کا اعلان بھی کیا۔
پابندی کے نتیجے میں نامزد اداروں کے وہ تمام اثاثے اور مفادات منجمد ہوں گے جو امریکا میں موجود ہوں یا امریکی افراد کے قبضے و کنٹرول میں آئیں۔ امریکی افراد اور امریکا سے گزرنے والے معاملات میں ان اداروں کے ساتھ بیشتر لین دین عمومی طور پر ممنوع ہوگا، جب تک OFAC کوئی مخصوص یا عمومی اجازت نہ دے۔ پچاس فیصد یا اس سے زیادہ ملکیت والے مزید ادارے بھی OFAC کے ملکیتی اصول کے تحت بلاک ہو سکتے ہیں۔
امریکی حکام نے بعض معاملات سمیٹنے کے لیے ایک عمومی لائسنس بھی جاری کیا، جس کا مقصد پہلے سے جاری مجاز لین دین کو محدود مدت میں بند کرنے کا راستہ دینا ہے۔ یہ اجازت پابندیاں ختم کرنے یا معمول کے نئے کاروبار کی کھلی منظوری نہیں۔ غیر امریکی مالی اداروں کو بھی نامزد اداروں کے ساتھ مخصوص اہم معاملات پر ثانوی پابندی کے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے، مگر ہر معاملے کا قانونی نتیجہ متعلقہ ضابطوں اور حقائق پر منحصر ہوگا۔
یہ کارروائی واشنگٹن کی ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی مہم کا حصہ ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ان کا محکمہ ایران کے مبینہ مالی سہولت کاروں کے خلاف مزید اقدامات کر سکتا ہے۔ مستقبل کی کسی پابندی کا بیان ابھی پیش گوئی یا پالیسی ارادہ ہے؛ موجودہ خبر کا ثابت شدہ نتیجہ صرف گولڈن گلوبل بینک اور اس کے دو ذیلی اداروں کی 4 ستمبر 2026 کی OFAC نامزدگی ہے۔




