ہنوئی/نیویارک: امریکا اور ویتنام کی کمپنیوں کے درمیان توانائی، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور مالیاتی خدمات سے متعلق درجنوں تجارتی معاہدے تیاری کے مراحل میں ہیں، جن کا اعلان ویتنامی رہنما تو لام کے نیویارک دورے کے دوران کیا جا سکتا ہے۔ رائٹرز نے دستاویزات کے حوالے سے بتایا کہ 23 ستمبر کو ہونے والی ایک کاروباری کانفرنس میں 29 ممکنہ معاہدے سامنے آ سکتے ہیں۔ چونکہ یہ منصوبے ابھی اعلان سے پہلے کے مرحلے میں ہیں، اس لیے تمام معاہدوں کو حتمی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
دستاویزات کے مطابق امریکی توانائی کمپنیوں شیورون، مرفی آئل اور ایکسن موبل کی جانب سے ویتنام کے سرکاری اداروں، جن میں پیٹروویتنام اور ویتنام ریفائنری اینڈ پیٹروکیمیکل کارپوریشن شامل ہیں، کے ساتھ مختلف نوعیت کے سمجھوتوں کا اعلان متوقع ہے۔ توانائی تعاون دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات کا اہم حصہ بن سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ویتنام اپنی بڑھتی معیشت کے لیے قابل اعتماد توانائی رسد اور نئی سرمایہ کاری چاہتا ہے۔
ہوا بازی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ویت جیٹ کی جانب سے 22 طیارے لیز پر لینے کے منصوبے کا ذکر ہے، جن میں بوئنگ اور ایئربس طیارے شامل ہو سکتے ہیں۔ اسی کمپنی کے بارے میں دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ وہ اسپیس ایکس کے ساتھ 120 طیاروں پر سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے کا معاہدہ بھی کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی جیٹ انجن کمپنیوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں، میٹا کے ویتنامی وزارت ثقافت کے ساتھ تعاون اور کوالکوم کے سرکاری ٹیلی کام گروپ وی این پی ٹی کے ساتھ معاہدے کی تیاری کا ذکر کیا گیا ہے۔
مالیاتی شعبے میں ویزا، ماسٹرکارڈ اور سٹی بینک سمیت امریکی اداروں کے نئے تعاون کے اعلانات بھی ممکن ہیں۔ تو لام 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کریں گے اور امریکی کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات کی صورتحال واضح نہیں۔ مجوزہ تجارتی اعلانات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب دونوں ملک تجارتی مذاکرات اور امریکی محصولات سے متعلق معاملات پر بھی رابطے میں ہیں، اس لیے کاروباری معاہدوں کو وسیع تر دوطرفہ اقتصادی تعلقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
