امریکا کے بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق جولائی میں حتمی طلب کے لیے پروڈیوسر پرائس انڈیکس ماہانہ بنیاد پر تبدیل نہیں ہوا۔ جون میں نظرثانی شدہ کمی 0.1 فیصد تھی، جبکہ جولائی تک بارہ ماہ میں تھوک قیمتیں 4.7 فیصد بڑھیں؛ جون کا سالانہ اضافہ 5.5 فیصد تھا۔

اشیا کی قیمتوں میں جولائی کے دوران 0.7 فیصد کمی نے خدمات میں 0.2 فیصد اور تعمیرات میں 2.2 فیصد اضافے کو متوازن کیا۔ توانائی کی تھوک قیمتیں 3.1 فیصد اور پٹرول 5.7 فیصد کم ہوا، جبکہ خوراک کی قیمتوں میں بھی 0.9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

خوراک اور توانائی جیسی زیادہ اتار چڑھاؤ والی مدیں نکالنے والا بنیادی انڈیکس ماہانہ 0.2 فیصد اور سالانہ 4.2 فیصد بڑھا، جو جون کی 4.7 فیصد سالانہ رفتار سے کم تھا۔ ایک مزید محدود سرکاری پیمانہ، جس میں تجارتی خدمات بھی نکالی جاتی ہیں، جولائی میں 0.4 فیصد اور سالانہ 4.7 فیصد بڑھا؛ دونوں پیمانوں کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔

پروڈیوسر انڈیکس گھریلو پیدا کنندگان کو ملنے والی اوسط قیمتوں میں تبدیلی ناپتا ہے اور صارف قیمتوں کا عین متبادل نہیں۔ البتہ صحت اور مالی خدمات جیسی بعض مدیں فیڈرل ریزرو کے ترجیحی ذاتی کھپت اخراجات کے مہنگائی اشاریے میں شامل ہوتی ہیں، اس لیے پالیسی ساز اس رپورٹ کی اندرونی تفصیل بھی دیکھتے ہیں۔

جولائی کے شروع میں پٹرول سستا ہوا، مگر امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے ہفتہ وار اعداد نے مہینے کے آخر میں قومی اوسط قیمت دوبارہ بڑھتی دکھائی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگلی مہنگائی رپورٹ لازماً بڑھے گی، مگر ایندھن کی واپسی جولائی کے نرم عدد سے مستقبل کا سیدھا نتیجہ نکالنے میں احتیاط کا تقاضا کرتی ہے۔

فیڈرل ریزرو نے 29 جولائی کو شرح سود کی حد 3.5 سے 3.75 فیصد پر برقرار رکھی اور کہا کہ مہنگائی اب بھی دو فیصد کے ہدف سے بلند ہے۔ اگلا باقاعدہ اجلاس 15 اور 16 ستمبر کو طے ہے؛ اس سے پہلے روزگار، صارف قیمتوں اور ذاتی کھپت کے نئے اعداد سامنے آئیں گے، اس لیے کسی شرحِ سود فیصلے کو ابھی حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔