اسلام آباد: وزارت تجارت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد کے لیے پانچ سال کی زیادہ سے زیادہ عمر کی پابندی باضابطہ طور پر ختم ہونے کی وضاحت کر دی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق وزارت نے 30 اکتوبر 2026 کے آفس میمورنڈم میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بتایا کہ یہ حد 30 جون 2026 کے بعد قابل اطلاق نہیں رہی اور یکم جولائی سے تجارتی درآمدات پر عمر کی مذکورہ پابندی ختم سمجھی جائے گی۔
وزارت کی وضاحت ایف بی آر کے 23 اکتوبر کے مراسلے کے جواب میں جاری کی گئی، جس میں جون 2026 کے بعد استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر عمر کی حد کے اطلاق کے بارے میں رہنمائی مانگی گئی تھی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ نے پہلے پاکستان کسٹمز ٹیرف کے متعلقہ کوڈز کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد 30 جون تک زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی عمر کی شرط کے ساتھ اجازت دی تھی۔
وزارت تجارت کے مطابق حکومتی فیصلے میں یہ گنجائش پہلے سے موجود تھی کہ مقررہ تاریخ کے بعد عمر کی حد ختم کی جا سکے۔ تاہم اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ درآمد شدہ گاڑیاں دیگر ضوابط سے مستثنیٰ ہوں گی۔ امپورٹ پالیسی آرڈر، متعلقہ ریگولیٹری تقاضے اور وزارت صنعت و پیداوار و انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے مقرر کردہ ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات بدستور لاگو رہیں گے۔
دوسری جانب پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے ذاتی درآمد کی گفٹ اسکیم کے مبینہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اس اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی تعداد مئی میں سات سے بڑھ کر جون میں 806، جولائی میں 1,876، اگست میں 1,406 اور ستمبر میں 2,238 تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد اور غلط استعمال سے متعلق مؤقف ایسوسی ایشن کے دعوے ہیں۔
پاما کا کہنا ہے کہ مقامی آٹو صنعت نے مینوفیکچرنگ اور لوکلائزیشن میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور درآمدی پالیسی میں تیز تبدیلی مقامی پیداوار، روزگار اور مستقبل کی سرمایہ کاری پر اثر ڈال سکتی ہے۔ وزارت تجارت کی موجودہ وضاحت تجارتی درآمدات کے لیے عمر کی حد ختم ہونے سے متعلق ہے، جبکہ ذاتی درآمدی اسکیموں کے طریقہ کار اور نگرانی پر صنعت کی جانب سے الگ پالیسی بحث جاری ہے۔

