اسلام آباد: وفاقی حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کو اپنی جائیدادوں اور دیگر قابلِ فروخت اثاثوں سے حاصل ہونے والی رقوم جلد از جلد وصول کرنے کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سرکاری سطح پر زیر غور مالی انتظامات کے مطابق کارپوریشن کی واجبات اور متعلقہ ضروریات پوری کرنے کے لیے اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔

وزارت صنعت و پیداوار نے متعلقہ اجلاس کو بتایا کہ مالی سال 2026-27 میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے لیے 23.20 ارب روپے مختص کیے گئے تھے اور اسی بنیاد پر وزارت خزانہ سے رقم جاری کرنے کی درخواست کی گئی۔ جواب میں فنانس ڈویژن نے کارپوریشن کو کہا کہ وہ جائیدادوں اور اثاثوں کی فروخت کے عمل کو تیز کرے اور اس سے حاصل ہونے والی رقم کے بعد باقی مالی ضرورت کے لیے 11.98 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری کا کیس پیش کرے۔

یہ پیش رفت یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے مالی معاملات اور اس کے اثاثوں کے تصفیے سے متعلق جاری حکومتی عمل کا حصہ ہے۔ اثاثوں کی فروخت کا مقصد دستیاب وسائل کو نقد رقوم میں تبدیل کرنا اور سرکاری خزانے پر براہ راست بوجھ کو محدود کرنا ہے۔ تاہم فروخت کی حتمی مالیت اس بات پر منحصر ہوگی کہ کون سی جائیدادیں یا اثاثے فروخت کیے جاتے ہیں، ان کی مارکیٹ ویلیو کیا بنتی ہے اور بولی یا دیگر قانونی طریقہ کار کے تحت کتنی رقم حاصل ہوتی ہے۔

کارپوریشن کے مالی معاملات میں ملازمین، واجبات اور ادارے کی بندش یا تنظیمِ نو سے متعلق اخراجات بھی اہم ہیں۔ حکومت کی جانب سے تکنیکی ضمنی گرانٹ کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اور بجٹ میں موجود مختص وسائل کو ملا کر ضروری ادائیگیوں کا انتظام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ابھی تک رپورٹ میں کسی مخصوص جائیداد کی حتمی فروخت یا خریدار کی تصدیق نہیں کی گئی۔

یوٹیلیٹی اسٹورز کئی دہائیوں تک ملک بھر میں سرکاری رعایتی یا کنٹرول شدہ اشیائے خورونوش کی فراہمی کے نظام کا حصہ رہے ہیں۔ تازہ ہدایت کا مرکز اس نیٹ ورک کی سابقہ تجارتی سرگرمیوں کے بجائے ادارے کے اثاثوں اور مالی ذمہ داریوں کا تصفیہ ہے۔ آئندہ مرحلے میں کارپوریشن کو اثاثوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اور باقی مالی ضرورت کی تفصیلات فنانس ڈویژن کے سامنے رکھنا ہوں گی۔