عالمی ڈیجیٹل آپریٹر ویون نے پاکستان میں آئندہ تین سال کے لیے اپنی مجوزہ سرمایہ کاری کا حجم ایک ارب ڈالر سے بڑھا کر 1.5 ارب ڈالر کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ اعلان کراچی میں یو این ڈی پی پاکستان کے زیر اہتمام ایس ڈی جیز انویسٹمنٹ فیئر 2026 سے ورچوئل خطاب کے دوران کیا۔
وزیر خزانہ نے سرمایہ کاری کے حجم میں 500 ملین ڈالر اضافے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ ویون نے رواں سال کے آغاز میں پاکستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا تھا، جس کا مقصد موبائل کنیکٹیویٹی بڑھانا، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر جدید بنانا اور نئی ڈیجیٹل خدمات و اختراعات کو فروغ دینا بتایا گیا تھا۔ تازہ اعلان کے مطابق مجموعی منصوبہ اب 1.5 ارب ڈالر تک بڑھ گیا ہے۔
محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں اس پیش رفت کو پاکستان میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے تناظر میں پیش کیا۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں 1.5 ارب ڈالر کی پوری رقم کے لیے منصوبہ وار تقسیم، ہر مرحلے کی حتمی تاریخ یا الگ الگ منصوبوں کی منظوریوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے اسے تین سالہ سرمایہ کاری منصوبہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ ایک ہی وقت میں پاکستان منتقل ہو چکی مکمل رقم۔
وزیر خزانہ نے نجکاری پروگرام میں غیر ملکی دلچسپی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پہلی بجلی تقسیم کار کمپنی جسے نجکاری کے لیے پیش کیا جا رہا ہے، اس میں تین ترک کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ دلچسپی ابھی حتمی خریداری یا کامیاب بولی کے برابر نہیں اور نجکاری کا باقاعدہ عمل اپنی شرائط کے مطابق مکمل ہوگا۔
انہوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ اکٹھا کرنے کی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں 11 ابتدائی عوامی پیشکشیں مکمل ہوئیں جبکہ گزشتہ سہ ماہی میں مزید پانچ آئی پی او ہوئے۔ ان کے مطابق کھاڈی بھی آئی پی او کی تیاری کر رہی ہے اور تقریباً 22 رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس آئندہ برسوں میں لسٹنگ کی طرف آ سکتے ہیں۔
ویون کی مجوزہ اضافی سرمایہ کاری پاکستان کے ٹیلی کام اور ڈیجیٹل شعبے کے لیے اہم ہو سکتی ہے، خاص طور پر نیٹ ورک انفراسٹرکچر، کنیکٹیویٹی اور ڈیجیٹل خدمات میں۔ عملی اقتصادی اثر کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سرمایہ کاری کن منصوبوں میں، کس رفتار سے اور کن ریگولیٹری و کاروباری شرائط کے تحت نافذ ہوتی ہے۔
