ویتنام کی حکومت نے یکم نومبر سے اوسط خوردہ بجلی قیمت میں دو فیصد کمی اور پٹرول پر عائد خصوصی کھپت ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد توانائی کی بلند لاگت کے دباؤ کو کم کرنا، گھرانوں اور کاروباری اداروں کو ریلیف دینا اور وسیع تر معاشی استحکام کی حمایت کرنا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق بجلی کا اوسط خوردہ ٹیرف کم ہو کر 2,159.9 ویتنامی ڈونگ فی کلوواٹ آور ہو جائے گا۔ اس رقم میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس شامل نہیں ہے۔ بجلی کے نرخ میں کمی ایسے وقت کی گئی ہے جب عالمی توانائی منڈیوں میں کشیدگی اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ایشیائی معیشتوں کی پیداواری لاگت اور صارفین کے اخراجات پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
اسی پیکیج کے تحت حکومت نے گیسولین یعنی پٹرول پر خصوصی کھپت ٹیکس کو بھی یکم نومبر سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے ٹرانسپورٹ اور کاروباری لاگت پر براہ راست اثر پڑنے کی توقع ہے، کیونکہ ایندھن کی قیمتیں اشیا کی ترسیل، صنعت اور روزمرہ نقل و حرکت کے اخراجات میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ویتنام ایک بڑی برآمدی اور مینوفیکچرنگ معیشت ہے، اس لیے بجلی اور ایندھن کی قیمتوں میں تبدیلی صنعتی مسابقت، مہنگائی اور گھریلو طلب تینوں کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔ حکومت نے ان فیصلوں کو لاگت میں کمی اور اقتصادی سرگرمی کو سہارا دینے کے تناظر میں پیش کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق نئی قیمت اور ٹیکس تبدیلی کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا۔ حکومتی اقدام کا فوری مقصد صارفین اور صنعت کو توانائی کے اخراجات سے ریلیف دینا ہے، تاہم اس کے مالیاتی اثرات، سرکاری آمدن میں ممکنہ کمی اور توانائی کمپنیوں کی لاگت پر طویل مدتی اثرات کا انحصار عالمی تیل و گیس قیمتوں اور ملکی طلب کی سمت پر ہوگا۔ یہ فیصلہ خطے میں توانائی کی قیمتوں کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے مالی اور انتظامی پالیسی کے مشترکہ استعمال کی ایک نمایاں مثال ہے۔
