نیویارک: امریکی حصص بازار کے بڑے اشاریے جمعہ کو کمی پر بند ہوئے، جس کے ساتھ مصنوعی ذہانت سے متعلق بھاری سرمایہ کاری کی لاگت اور اس کے پائیدار منافع پر سرمایہ کاروں کی تشویش نے ایک اتار چڑھاؤ والے ہفتے کا اختتام کیا۔ رائٹرز کے مطابق ٹیکنالوجی حصص میں گزشتہ سیشن کی بڑی فروخت کے بعد کچھ استحکام آیا، تاہم مارکیٹ کے بیشتر شعبے دباؤ میں رہے۔
ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 652.82 پوائنٹس، یعنی 1.23 فیصد، گر کر 52,215.16 پر بند ہوا۔ ایس اینڈ پی 500 میں 39.75 پوائنٹس یا 0.52 فیصد کمی ہوئی اور یہ 7,623.68 پر آ گیا، جبکہ نیسڈیک کمپوزٹ 53.52 پوائنٹس یا 0.21 فیصد کم ہو کر 25,955.34 پر بند ہوا۔ ہفتہ وار بنیاد پر ایس اینڈ پی 500 میں 0.5 فیصد اور نیسڈیک میں 0.7 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ڈاؤ 0.4 فیصد بڑھا اور مسلسل تیسرے ہفتے فائدے میں رہا۔
مارکیٹ میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز اور دیگر انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ خرچ کے مالی اثرات مرکزی موضوع بنے رہے۔ سرمایہ کار آئندہ ہفتے Alphabet، Microsoft اور Amazon سمیت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج اور سرمایہ کاری کے منصوبوں کو قریب سے دیکھیں گے۔ تقریباً ایک تہائی ایس اینڈ پی 500 کمپنیاں آئندہ ہفتے اپنے نتائج جاری کرنے والی ہیں، جس سے امریکی کارپوریٹ منافع کی سمت کے بارے میں مزید اشارے ملیں گے۔
کمیونیکیشن سروسز کے حصص بھی دباؤ میں رہے۔ اس رپورٹ کے بعد کہ SpaceX ممکنہ طور پر امریکا میں چوتھا وائرلیس کیریئر قائم کرنے کے لیے ہزاروں سیل سائٹس کی تلاش کر رہی ہے، AT&T اور T-Mobile کے حصص تقریباً 8 فیصد گر گئے، جبکہ Verizon میں بھی کمی آئی۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی کے حصص میں اضافہ ہوا اور شعبے نے ریکارڈ سطح دیکھی۔
سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ پالیسی اجلاس پر بھی ہے۔ شرح سود کے فیصلے اور دسمبر کے ممکنہ راستے سے متعلق اشارے مارکیٹ کے لیے اہم ہوں گے، جبکہ بلند توانائی قیمتیں، کمزور صارف اعتماد اور نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات بھی سرمایہ کاروں کے جائزے میں شامل ہیں۔

