اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے ارکان کے تحفظات کے بعد واپڈا سکیورٹی فورس بل 2026 پر فیصلہ اگلے اجلاس تک مؤخر کر دیا ہے۔ کمیٹی کا اجلاس 2 ستمبر کو چیئرمین احمد عتیق انور کی صدارت میں ہوا، جہاں مجوزہ فورس کے دائرۂ اختیار، حراست کے اختیارات اور واپڈا منصوبوں کے گرد ایک کلومیٹر تک کارروائی کی ممکنہ گنجائش پر تفصیلی بحث ہوئی۔

مجوزہ قانون کا مقصد واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے منصوبوں، تنصیبات، ملازمین اور غیر ملکی ماہرین کی حفاظت کے لیے موجود سکیورٹی انتظام کو باقاعدہ قانونی و عملی ڈھانچہ دینا بتایا گیا ہے۔ واپڈا حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ واپڈا ایکٹ 1958 میں الگ سکیورٹی فورس کے قیام، اس کے دائرۂ کار، اختیارات اور فرائض کی جامع قانونی دفعات موجود نہیں، اس لیے نئے قانون کی ضرورت محسوس کی گئی۔

پیپلز پارٹی کے ارکان سید جاوید علی شاہ جیلانی اور صبا تالپور سمیت بعض اراکین نے اس شق پر اعتراض اٹھایا جس سے واپڈا سکیورٹی اہلکاروں کو منصوبے یا تنصیب کے گرد مقررہ حدود میں مشتبہ افراد کو حراست میں لینے کا اختیار مل سکتا ہے۔ ارکان نے خاص طور پر پوچھا کہ ’’فورس‘‘ کا استعمال کن حالات میں ہوگا، اختیارات کے غلط استعمال کو کیسے روکا جائے گا اور عام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کون سی نگرانی موجود ہوگی۔

واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ محمد سعید نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ اختیارات عام پولیسنگ کے لیے نہیں بلکہ واپڈا کے محفوظ مقامات میں غیر مجاز داخلے اور فوری حفاظتی خطرات تک محدود ہوں گے۔ انہوں نے مجوزہ فورس کا موازنہ ایئرپورٹس سکیورٹی فورس سے کیا، جو اپنے مقررہ حفاظتی دائرے میں مخصوص فرائض انجام دیتی ہے۔ یہ واپڈا کا انتظامی مؤقف ہے؛ بل کی حتمی زبان اور قابلِ نفاذ حدود پارلیمانی منظوری کے بعد ہی طے ہوں گی۔

وزارتِ قانون کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر کسی شخص کو حراست میں لیا گیا تو کارروائی ضابطۂ فوجداری کے تحت ہوگی اور متعلقہ فرد کو فوری طور پر پولیس کے حوالے کرنا لازم ہوگا۔ واپڈا کی قانونی ٹیم نے یہ بھی کہا کہ نجی سکیورٹی اداروں کو گرفتاری کے اختیارات سے متعلق عدالتی پابندیاں ریاستی ادارے کی قانونی فورس پر اسی صورت میں لاگو نہیں ہوتیں۔ تاہم اس قانونی تشریح پر اراکین نے مزید وضاحت اور مضبوط حفاظتی شقوں کی ضرورت ظاہر کی۔

واپڈا نے سکیورٹی فورس کے لیے مستقل قانون سازی کا جواز داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے غیر ملکی انجینئرز اور کارکنوں پر جولائی 2021 اور مارچ 2024 کے مہلک حملوں سمیت بڑے منصوبوں کو درپیش خطرات سے جوڑا۔ ان واقعات نے حساس تعمیراتی مقامات، نقل و حرکت کے راستوں اور غیر ملکی عملے کی حفاظت کے انتظامات پر مسلسل سوالات پیدا کیے ہیں۔

کمیٹی نے نہ بل منظور کیا اور نہ مجوزہ گرفتاری اختیارات کو نافذ ہونے دیا۔ سرکاری کارروائی کے مطابق معاملہ مزید غور کے لیے اگلے اجلاس تک ملتوی کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ موجودہ مرحلے پر واپڈا سکیورٹی فورس کو نئے قانونی اختیارات حاصل نہیں ہوئے۔ آئندہ اجلاس میں ارکان مجوزہ متن، ایک کلومیٹر کی حدود، پولیس کے ساتھ رابطے، جواب دہی اور شہری آزادیوں کے تحفظ سے متعلق مزید ترامیم یا وضاحتیں طلب کر سکتے ہیں۔

بل پہلی مرتبہ 20 مئی 2026 کو قومی اسمبلی میں متعارف کرایا گیا تھا۔ قانون بننے کے لیے اسے متعلقہ پارلیمانی مراحل، دونوں ایوانوں کی منظوری اور صدرِ مملکت کی توثیق درکار ہوگی۔ قائمہ کمیٹی کی تازہ کارروائی اس قانون سازی کے جائزے کا مرحلہ ہے، کوئی حتمی منظوری یا عدالتی فیصلہ نہیں۔