اسلام آباد: پاکستان اور اسکاٹ لینڈ میں قائم عالمی مائننگ ٹیکنالوجی کمپنی ویئر کے درمیان معدنی شعبے میں ممکنہ طویل مدتی تعاون پر بات چیت ہوئی ہے، جبکہ کمپنی نے پاکستان میں اپنی موجودگی اور صنعت کے اہم شراکت داروں کے ساتھ روابط بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ وزارت پیٹرولیم کے بیان کے مطابق یہ گفتگو وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور ویئر کے سینئر نمائندے جے ڈی سنگلٹن کی ملاقات میں ہوئی۔
ملاقات میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے معدنی مواقع، جدید کان کنی ٹیکنالوجی کے استعمال اور ایسے شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا جہاں حکومت اور کمپنی کے درمیان تزویراتی تعاون ممکن ہو سکتا ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے ویئر کی دلچسپی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت معدنی شعبے میں کمپنی کی شمولیت اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے سہولت فراہم کرے گی۔
ویئر ایک بین الاقوامی انجینئرنگ اور مائننگ ٹیکنالوجی کمپنی ہے جس کے 11 ہزار سے زیادہ ملازمین 50 سے زیادہ ممالک میں کام کرتے ہیں۔ کمپنی نے پاکستانی حکومت اور مقامی صنعتی شراکت داروں کے ساتھ طویل مدتی تعلقات بنانے کے عزم کا اظہار کیا، تاہم دستیاب سرکاری بیان میں کسی مخصوص منصوبے، سرمایہ کاری رقم، کان یا مشترکہ منصوبے کے حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
کمپنی پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 میں پلاٹینم اسپانسر کے طور پر شرکت کرے گی۔ فورم 12 اور 13 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونے کی توقع ہے اور ویئر کے گروپ چیف ایگزیکٹو اینڈریو نیلسن سمیت سینئر قیادت کی شرکت بھی متوقع ہے۔ حکومت اس فورم کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والوں کے سامنے پاکستان کے معدنی وسائل اور منصوبوں کو پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
پاکستان حالیہ برسوں میں تانبے، سونے اور دوسرے معدنی وسائل میں بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ جدید کان کنی ٹیکنالوجی پیداوار، وسائل کے بہتر استعمال اور ماحولیاتی و آپریشنل کارکردگی میں کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن کسی کمپنی کی دلچسپی اور ابتدائی مذاکرات کو مکمل شدہ سرمایہ کاری نہیں سمجھنا چاہیے۔ ویئر کے ساتھ تعاون کی حقیقی مالی اور صنعتی اہمیت تب واضح ہوگی جب مخصوص منصوبوں، سرمایہ کاری کی مالیت اور عملی ٹائم لائن سے متعلق باقاعدہ معاہدے سامنے آئیں گے۔

