ماسکو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس اور یوکرین کے درمیان چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ ختم کرانے کی نئی سفارتی کوشش کے لیے ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ ونوکووو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر روسی صدارتی ایلچی کیرل دمترییف نے ان کا استقبال کیا۔ امریکی وفد کی آمد تصدیق شدہ ہے، تاہم مجوزہ امن منصوبے کا مکمل متن، روسی جواب اور کسی ممکنہ معاہدے کی شرائط ابھی عوامی نہیں کی گئیں۔
امریکی حکام اور سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ایلچی ماسکو میں بات چیت کے بعد کیف جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک سینئر یوکرینی عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وفد اتوار کو یوکرین پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ امریکی میڈیا نے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ممکنہ ملاقات کی اطلاع دی۔ یہ ملاقاتیں رپورٹ ہونے تک متوقع تھیں؛ ان کے انعقاد اور نتائج کی الگ سرکاری تصدیق درکار ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وٹکوف اور کشنر یہ جانچنے گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کرنے کی جانب پیش رفت ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمائندے ایک امن تجویز ساتھ لے کر گئے ہیں، مگر اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا اس میں یوکرین سے کسی علاقے پر دعویٰ چھوڑنے یا سرحدی انتظام قبول کرنے کا مطالبہ شامل ہے۔ اس لیے تجویز کو جنگ بندی یا امن معاہدہ کہنا قبل از وقت ہوگا؛ فی الحال یہ مذاکرات کے لیے امریکی خاکہ ہے۔
یہ وٹکوف اور کشنر کا ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت میں جنگ زدہ کیف کا پہلا متوقع دورہ ہوگا۔ یوکرین کی فضائی حدود 2022 سے جنگ کے باعث بند ہیں اور زیادہ تر غیر ملکی رہنما پولینڈ سے ریل کے ذریعے کیف جاتے رہے ہیں۔ رپورٹوں میں امریکی وفد کے ممکنہ فضائی سفر کا ذکر ہوا ہے، لیکن سفری راستے اور حفاظتی انتظامات کی حتمی تفصیل ظاہر نہیں کی گئی۔
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ روس نے وفد کے دورے کی تیاری متاثر کرنے کے لیے کیف کے دو ہوائی اڈوں اور دنیپرو خطے میں شہری ہدف پر رات کے حملے کیے۔ ایک علاقائی یوکرینی عہدیدار نے کامیانسکے میں روسی حملے سے چار افراد کی ہلاکت اور پانچ کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ یہ واقعات اور ان کا مبینہ مقصد یوکرینی حکام کے بیانات پر مبنی ہیں؛ روس نے دورے میں خلل ڈالنے کے الزام پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔
زیلنسکی نے امریکی نمائندوں کے سفر کے دوران فضائی حملے روکنے کی پیشکش کرتے ہوئے روس سے بھی باہمی طور پر حملے بند رکھنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق یوکرین سفارت کاری کو خطرہ نہیں بنائے گا۔ روس کی جانب سے اس محدود جنگ بندی کی تجویز قبول کیے جانے کی فوری اطلاع نہیں تھی، اس لیے اسے نافذ جنگ بندی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسی دوران دونوں ملکوں کے طویل فاصلے کے ڈرون اور میزائل حملے جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔
وٹکوف اور کشنر اس سے قبل غزہ اور ایران سے متعلق امریکی مذاکراتی کوششوں میں بھی شریک رہے ہیں اور روسی حکام سے متعدد بار رابطہ کر چکے ہیں۔ موجودہ سفر ایسے وقت ہو رہا ہے جب گزشتہ سفارتی کوششیں کسی جامع معاہدے تک نہیں پہنچ سکیں اور بنیادی اختلافات میں مقبوضہ علاقوں کی حیثیت، سلامتی کی ضمانتیں، پابندیاں اور جنگ بندی کی نگرانی شامل ہیں۔ دستیاب خبر میں ان نکات پر نئی متفقہ زبان سامنے نہیں آئی۔
تازہ پیش رفت کا قابل تصدیق نتیجہ امریکی ایلچیوں کی ماسکو آمد اور روس و یوکرین دونوں سے بات چیت کی کوشش ہے۔ اصل پیش رفت کا اندازہ اس وقت ہوگا جب ماسکو ملاقاتوں، کیف دورے، تجویز کے قابلِ قبول نکات اور کسی ممکنہ جنگ بندی سے متعلق مشترکہ یا الگ سرکاری بیانات جاری ہوں۔ تب تک صدر ٹرمپ کا مثبت امکان ظاہر کرنا ایک سیاسی توقع ہے، طے شدہ امن نتیجہ نہیں۔




