جنیوا: عالمی موسمیاتی تنظیم، ڈبلیو ایم او، نے خبردار کیا ہے کہ بحرالکاہل میں قائم ال نینو آنے والے مہینوں میں مزید طاقتور ہو کر انتہائی شدید سطح تک پہنچ سکتا ہے اور اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو یہ گزشتہ تقریباً چار دہائیوں کی منظم مانیٹرنگ میں سب سے مضبوط واقعہ بن سکتا ہے۔ تنظیم نے 3 ستمبر 2026 کو جاری تازہ اپ ڈیٹ میں فروری 2027 تک ال نینو برقرار رہنے کا امکان تقریباً سو فیصد قرار دیا۔
ڈبلیو ایم او کے مطابق موجودہ موسمی نظام کے 2026 کے اختتام کے قریب عروج پر پہنچنے کی توقع ہے، مگر عالمی درجۂ حرارت، بارشوں اور دیگر موسمی اثرات 2027 میں بھی جاری رہ سکتے ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ اس کی پیش گوئی عالمی موسمی مراکز، قومی محکمہ ہائے موسمیات اور مختلف موسمی ماڈلز کے غیر معمولی طور پر مضبوط اتفاق پر مبنی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ڈبلیو ایم او کی ال نینو/لا نینا اپ ڈیٹ میں برقرار رہنے کے امکان کو اس قدر یقینی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
مرکزی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت معمول سے بہت زیادہ ہے۔ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے نینو 3.4 اشاریے کے مطابق مئی سے جولائی کے دوران اوسط انحراف مثبت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، جو جولائی میں 2 ڈگری تک پہنچا۔ جولائی کے آخر سے اگست کے وسط تک ہفتہ وار قدر معمول سے تقریباً 2.2 سے 2.6 ڈگری زیادہ ریکارڈ ہوئی، جبکہ بعض زیرِ سطح سمندری حصوں میں درجۂ حرارت جولائی اور اگست کے آغاز میں معمول سے 8 ڈگری سے بھی زیادہ تھا۔
ڈبلیو ایم او نے واضح کیا کہ انتہائی شدید ال نینو کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ملک یا خطے میں ایک جیسے یا ایک ہی شدت کے اثرات مرتب ہوں گے۔ بارش، درجۂ حرارت اور ہواؤں میں تبدیلی مقام، موسم اور بحرِ ہند و بحرِ اوقیانوس جیسے دوسرے موسمی عوامل سے بھی متاثر ہوتی ہے۔ ستمبر سے نومبر 2026 کے عالمی موسمی جائزے میں تقریباً تمام زمینی خطوں کے لیے معمول سے زیادہ درجۂ حرارت کا امکان بڑھا ہوا دکھایا گیا ہے، مگر مقامی فیصلوں کے لیے قومی محکمہ ہائے موسمیات کی پیش گوئیاں ہی بنیادی حوالہ رہیں گی۔
ال نینو استوائی بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سطحِ سمندر کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے وابستہ قدرتی موسمی مظہر ہے۔ یہ عموماً ہر دو سے سات برس بعد نمودار ہوتا اور نو سے بارہ ماہ رہتا ہے۔ ڈبلیو ایم او نے کہا کہ ال نینو خود موسمیاتی تبدیلی سے پیدا نہیں ہوتا، تاہم یہ عالمی حدت کے پس منظر میں شدید گرمی، خشک سالی، سیلاب اور بارش کے غیر معمولی نمونوں کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔
تنظیم کی سیکریٹری جنرل سیلیستے ساؤلو نے حکومتوں اور امدادی اداروں سے غیر معمولی تیاری کی اپیل کی۔ ڈبلیو ایم او نے قومی موسمیاتی اداروں، اقوام متحدہ کے دفتر برائے آفات میں کمی اور خوراک و زراعت کی تنظیم کے ساتھ رابطہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے، تاکہ زراعت، صحت، توانائی، پانی، نقل و حمل اور آفات سے نمٹنے کے شعبوں کو بروقت موسمی معلومات مل سکیں۔
یہ پیش گوئی کسی مخصوص ملک میں لازمی سیلاب یا خشک سالی کا اعلان نہیں بلکہ عالمی سطح کا احتمالی موسمی جائزہ ہے۔ پاکستان سمیت ہر ملک میں ممکنہ اثرات جانچنے کے لیے علاقائی ماڈلز، مقامی بارش، درجۂ حرارت، دریاؤں اور زرعی حالات کی الگ نگرانی درکار ہو گی۔ ڈبلیو ایم او نے حکومتوں کو دستیاب پیشگی وقت استعمال کرتے ہوئے انتباہی نظام، پانی اور خوراک کی منصوبہ بندی اور کمزور آبادیوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کی ہدایت دی ہے۔




