کراچی: وفاقی حکومت نے خواتین کاروباریوں تک مائیکروفنانس کی رسائی بڑھانے کے لیے ویمن مائیکروفنانس کریڈٹ گارنٹی فیسلٹی، ڈبلیو ایم سی جی ایف، شروع کر دی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 4 ستمبر 2026 کے سرکلر کے مطابق بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کی جانب سے اہل نان بینک مائیکروفنانس کمپنیوں اور نان بینک فنانس کمپنیوں کو دی جانے والی فنانسنگ کے پورٹ فولیو پر 25 فیصد تک فرسٹ لاس بنیاد پر حکومتی ضمانت فراہم کی جائے گی، بشرطیکہ یہ رقم خواتین کاروباریوں کو آگے قرض دینے کے لیے استعمال ہو۔

فرسٹ لاس گارنٹی کا مطلب یہ ہے کہ اہل پورٹ فولیو میں متعین حدود کے اندر ابتدائی نقصان کا ایک حصہ ضمانتی فنڈ برداشت کرے گا۔ یہ خواتین قرض لینے والوں کے لیے 25 فیصد نقد سبسڈی، قرض کی خودکار معافی یا ہر انفرادی قرض کی مکمل سرکاری ضمانت نہیں ہے۔ باقی خطرہ، قرض کی جانچ، وصولی اور قواعد کی پابندی شریک مالی اداروں کی ذمہ داری رہے گی۔

سہولت وفاقی حکومت کے ویمن انکلوسیو فنانس سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کا حصہ ہے، جس میں پالیسی اصلاحات، کریڈٹ لائنز اور خواتین کے لیے مالی رسائی کے دوسرے اقدامات شامل ہیں۔ اسے چلانے کے لیے ویمن انکلوسیو فنانس سپورٹ فنڈ ٹرسٹ قائم کیا گیا ہے اور اسٹیٹ بینک کو ٹرسٹی مقرر کیا گیا ہے۔ ٹرسٹ نئی گارنٹی سہولت کے ساتھ پروگرام کی موجودہ کریڈٹ لائنز بھی سنبھالے گا۔

اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو سرکلر جاری ہونے کے 30 دن کے اندر گارنٹی حدود کی تخصیص کے لیے درخواست دینے کی ترغیب دی ہے۔ درخواست منظور ہونے کے بعد ہی کسی ادارے کو مقررہ حد ملے گی، اس لیے سرکلر کا اجرا یہ معنی نہیں رکھتا کہ ملک کا ہر بینک فوری طور پر ایک ہی شرائط پر قرض دینا شروع کر چکا ہے۔ شریک اداروں، دستیاب حد اور آغاز کی عملی تاریخیں بعد کی منظوریوں سے واضح ہوں گی۔

پرافٹ از پاکستان ٹوڈے کے مطابق پروگرام کے تحت نان بینک مائیکروفنانس کمپنیاں خواتین کاروباریوں کو 25 ہزار روپے سے 30 لاکھ روپے تک قرض دے سکیں گی اور مدت 36 ماہ تک ہو سکتی ہے۔ یہ سہولت مخصوص اہلیت، کاروباری مقصد، ادارے کی کریڈٹ جانچ اور پروگرام کی عملی شرائط سے مشروط ہوگی۔ کسی درخواست گزار کے لیے زیادہ سے زیادہ رقم خودکار حق نہیں بلکہ اس کی مالی ضرورت اور ادائیگی صلاحیت کے مطابق فیصلہ ہوگا۔

شریک بینکوں اور ڈی ایف آئیز کو حکومتی گارنٹی بلا فیس دی جائے گی، جس کا مقصد مائیکروفنانس کمپنیوں کو نسبتاً بہتر شرائط پر لیکویڈیٹی دلانا ہے۔ توقع ہے کہ خطرے کا ایک حصہ سرکاری تحفظ میں آنے سے بینک ایسے اداروں کو زیادہ فنانسنگ فراہم کریں گے جو خواتین کی چھوٹی کاروباری سرگرمیوں تک قرض پہنچاتے ہیں۔ تاہم آخری صارف کے مارک اپ، پراسیسنگ فیس، ضمانت اور دیگر اخراجات کی مکمل یکساں شرح سرکلر کے مرکزی متن میں بیان نہیں؛ قرض لینے سے پہلے متعلقہ ادارے کی تحریری شرائط دیکھنا ضروری ہوگا۔

یہ نئی سہولت پہلے سے موجود خواتین کاروباریوں کی ری فنانس اور کریڈٹ گارنٹی اسکیموں سے الگ ڈھانچہ رکھتی ہے۔ تازہ پروگرام میں سرکاری تحفظ براہِ راست بینک سے خاتون کاروباری کو دیے گئے ہر قرض کے بجائے بینک یا ڈی ایف آئی کی نان بینک مائیکروفنانس ادارے کو فراہم کردہ پورٹ فولیو فنانسنگ پر مرکوز ہے۔ اس فرق سے اسکیم کے مستفید ہونے کا راستہ اور ذمہ دار ادارے واضح ہوتے ہیں۔

پروگرام کی کامیابی کا جائزہ صرف مختص ضمانتی حدود سے نہیں بلکہ خواتین کو حقیقتاً جاری قرضوں، نئے قرض گیر کاروباروں، جغرافیائی رسائی، شرحِ واپسی، نادہندگی، ملازمتوں اور شکایات کے حل سے ہوگا۔ اسٹیٹ بینک نے اہلیت، آپریشنل عمل اور رپورٹنگ کے لیے الگ ضمیمے جاری کیے ہیں، جن کے تحت شریک اداروں کو باقاعدہ ڈیٹا دینا ہوگا۔