عالمی بینک پاکستان کو معاشی استحکام کے مرحلے سے نجی سرمایہ کاری، برآمدات اور روزگار پر مبنی نمو کی جانب منتقل کرنے کے لیے 300 ملین ڈالر کے مجوزہ مالی پروگرام کی تیاری کر رہا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ’’پاکستان بولڈ ریفارمز فار انویسٹمنٹ ڈریون گروتھ اینڈ ایمپلائمنٹ پروگرام‘‘، جسے مختصراً برج کہا گیا ہے، پانچ سالہ اصلاحاتی فریم ورک ہوگا اور وزارت خزانہ اس کی قیادت کرے گی۔ یہ منصوبہ ابھی تیاری اور جائزے کے مرحلے میں ہے؛ 300 ملین ڈالر کی رقم کو منظور شدہ، دستخط شدہ یا جاری شدہ قرض نہیں سمجھنا چاہیے۔

عالمی بینک کی دستاویز کے مطابق پروگرام کا تکنیکی ڈیزائن جائزہ ستمبر 2026 میں اور بورڈ کے سامنے ممکنہ منظوری جنوری 2027 میں طے ہے۔ منصوبہ جاتی شیڈول تیاری کے دوران تبدیل ہوسکتا ہے اور بورڈ منظوری سے پہلے مالی، ادارہ جاتی، ماحولیاتی و سماجی جانچ سمیت مطلوبہ مراحل مکمل ہونا ضروری ہوں گے۔ اس لیے موجودہ پیش رفت مالیاتی پائپ لائن میں زیر تیاری آپریشن ہے، حتمی قانونی مالی معاہدہ نہیں۔

مجوزہ 300 ملین ڈالر میں 150 ملین ڈالر انٹرنیشنل بینک فار ریکنسٹرکشن اینڈ ڈیولپمنٹ اور 150 ملین ڈالر انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کے ذریعے فراہم کرنے کی تیاری ہے۔ مجموعی پیکیج میں 270 ملین ڈالر کا پروگرام فار رزلٹس حصہ اور 30 ملین ڈالر کی انویسٹمنٹ پروجیکٹ فنانسنگ شامل ہوگی، جو تکنیکی معاونت کے لیے استعمال ہونے کا امکان ہے۔ دونوں ذرائع کی مالی شرائط، مدت، شرح اور واپسی کا حتمی ڈھانچہ منظوری اور مذاکرات کے بعد واضح ہوگا۔

پروگرام فار رزلٹس طریقے میں رقم کا اجرا صرف پالیسی اعلان پر نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ قابلِ پیمائش نتائج کے حصول سے جوڑا جاتا ہے۔ عالمی بینک نے اسی بنا پر ایک مرتبہ کی پالیسی حمایت کے بجائے اس آلے کو منتخب کیا، تاکہ مختلف وزارتوں میں اصلاحات کے مسلسل نفاذ، ادارہ جاتی صلاحیت اور جواب دہی کو مالی ادائیگیوں سے منسلک کیا جاسکے۔ مطلوبہ نتائج، ان کی پیمائش اور ہر مرحلے کی رقم کی مکمل فہرست ابھی عوامی رپورٹ میں شامل نہیں۔

مجوزہ پروگرام کے تین بڑے نتائجاتی شعبے بیان کیے گئے ہیں۔ پہلا شعبہ کاروباری ضوابط آسان کرنے، چھوٹے و درمیانے کاروباروں اور برآمد کنندگان کی مالی رسائی بہتر بنانے اور تجارت کی لاگت کم کرنے سے متعلق ہوگا۔ دوسرا حصہ زرعی کاروبار، ڈیجیٹل خدمات اور ادویات جیسے زیادہ برآمدی امکان رکھنے والے شعبوں میں مخصوص رکاوٹیں دور کرنے، سرمایہ متوجہ کرنے اور عالمی منڈی تک رسائی بڑھانے پر توجہ دے گا۔ تیسرا شعبہ ہنر کی شناخت، روزگار کی منڈی کے معلوماتی نظام، صنعت کی طلب سے تربیت ملانے اور بیرون ملک روزگار و ہجرت کے طریقوں کو بہتر بنانے سے متعلق ہے۔

عالمی بینک نے اپنی تشخیص میں کہا کہ پاکستان نے جاری آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مجموعی معاشی استحکام بڑی حد تک بحال کیا ہے، مگر نجی سرمایہ کاری تقریباً 10 فیصد مجموعی ملکی پیداوار پر رکی ہوئی ہے، جو علاقائی ہم عصروں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم بتائی گئی۔ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو تقریباً 0.6 فیصد جی ڈی پی قرار دیا گیا۔ بینک نے کاروبار کے مشکل ماحول، بھاری ضوابط، محدود مالی رسائی، بلند تجارتی لاگت اور کمزور لیبر مارکیٹ نتائج کو سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں شمار کیا۔ یہ عالمی بینک کا تشخیصی مؤقف ہے، نہ کہ ہر شعبے یا کاروبار کا یکساں تجربہ۔

برج پروگرام کو حکومت کے اڑان پاکستان اصلاحاتی ایجنڈے اور عالمی بینک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک سے منسلک کیا گیا ہے۔ دستاویز میں 2035 تک نجی سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے 15 فیصد تک لے جانے کے وسیع ہدف کا ذکر ہے۔ یہ طویل مدتی پالیسی ہدف ہے اور مجوزہ 300 ملین ڈالر کی فنانسنگ بذاتِ خود اس شرح کے حصول کی ضمانت نہیں۔ نتیجہ ملکی اور غیر ملکی کاروباری فیصلوں، معاشی استحکام، توانائی و تجارتی لاگت، قانون کے نفاذ اور اصلاحات کے تسلسل سمیت متعدد عوامل پر منحصر ہوگا۔

ماحولیاتی اور سماجی پہلوؤں میں تکنیکی معاونت والے حصے کا ماحولیاتی خطرہ کم اور سماجی خطرہ معتدل قرار دیا گیا ہے۔ وسیع پروگرام کے لیے ماحولیاتی و سماجی نظاموں کا جامع جائزہ تیاری کے دوران کیا جائے گا۔ اس جانچ کی اہمیت اس لیے ہے کہ ضابطہ، تجارت اور لیبر مارکیٹ میں تبدیلیوں کے فوائد اور بوجھ مختلف صنعتوں، کارکنوں اور علاقوں پر مختلف پڑسکتے ہیں۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت عالمی بینک کی جانب سے 300 ملین ڈالر کے مجوزہ برج پروگرام کی تیاری، اس کی ابتدائی مالی تقسیم، تین اصلاحاتی شعبے اور جنوری 2027 کی متوقع بورڈ تاریخ ہے۔ حتمی منظوری، شرائط، رقم کے اجرا اور اصلاحاتی نتائج کا فیصلہ تیاری مکمل ہونے اور عالمی بینک بورڈ کی باضابطہ کارروائی کے بعد ہوگا۔