اسلام آباد: عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 600 ملین ڈالر کی مجوزہ فنانسنگ کو وسیع معاشی اور تجارتی اصلاحات کے پروگرام سے منسلک کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق پاکستان بولڈ ریفارمز فار انویسٹمنٹ ڈرائیون گروتھ اینڈ ایمپلائمنٹ (BRIDGE) پروگرام پانچ سال کے لیے تجویز کیا گیا ہے اور اس کا مقصد نجی سرمایہ کاری، برآمدی مسابقت اور روزگار کے مواقع میں رکاوٹ بننے والے ساختی مسائل کو کم کرنا ہے۔

عالمی بینک کی دستاویز کے مطابق پروگرام کی مجموعی تخمینی لاگت 1.193 ارب ڈالر ہے، جس میں 600 ملین ڈالر عالمی بینک اور تقریباً 593.38 ملین ڈالر حکومت کی جانب سے شامل کیے جانے کی تجویز ہے۔ آپریشن میں 1.173 ارب ڈالر کا نتائج پر مبنی پروگرام اور 20 ملین ڈالر کی تکنیکی معاونت شامل ہوگی۔ منصوبے کی عالمی بینک سے منظوری جنوری 2027 میں تجویز کی گئی ہے، اس لیے یہ رقم ابھی منظور شدہ یا جاری شدہ قرض نہیں بلکہ زیر تیاری فنانسنگ پروگرام ہے۔

مجوزہ اصلاحات میں گندم اور چینی کو امپورٹ/ایکسپورٹ آرڈر 2022 سے نکالنا، یوریا کی درآمد میں نجی شعبے کی زیادہ شرکت، پاکستان بزنس پورٹل کو کاروباری منظوریوں کے لیے ون اسٹاپ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر فعال کرنا اور سرمایہ کاروں کے تحفظ و شفافیت کے لیے جدید انویسٹمنٹ ایکٹ متعارف کرانا شامل ہے۔ پروگرام میں کارپوریٹ دیوالیہ پن کے متحدہ قانون، فیکٹرنگ قانون اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف پاکستان کو مکمل طور پر فعال کرنے جیسے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں۔

عالمی بینک نے پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کو تقریباً 10 فیصد جی ڈی پی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو تقریباً 0.6 فیصد جی ڈی پی بتایا ہے۔ دستاویز میں پیچیدہ ضوابط، محدود فنانسنگ، بلند تجارتی لاگت اور کارکنوں کی مہارت و آجر کی ضرورت کے درمیان فرق کو سرمایہ کاری اور پیداواریت کی بڑی رکاوٹوں میں شمار کیا گیا ہے۔ پروگرام وزارت خزانہ کے ذریعے مربوط کیے جانے کی تجویز ہے اور اس کے تین بڑے شعبے ضابطہ جاتی و مالی رکاوٹیں کم کرنا، برآمدی شعبوں کی مسابقت بہتر کرنا اور لیبر مارکیٹ و ہنرمندی کے نظام کو مضبوط بنانا ہیں۔

زرعی کاروبار کے علاوہ فارماسیوٹیکل برآمدات بھی پروگرام کا حصہ ہیں۔ مجوزہ اقدامات میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو عالمی ادارہ صحت کے ریگولیٹری میچیورٹی لیول 3 تک پہنچانے اور فارماسیوٹیکل انسپیکشن کوآپریشن اسکیم کی رکنیت کے لیے معاونت شامل ہے۔ لیبر مارکیٹ کے لیے قومی معلوماتی نظام، بہتر ووکیشنل کوالیفکیشنز اور ڈیجیٹل مائیگریشن سروسز بھی زیر تجویز ہیں۔ پروگرام کے نتائج کاروباری رجسٹریشن، فنانس تک رسائی، تجارتی کلیئرنس کے وقت، بین الاقوامی ایکریڈیٹیشن اور پیشہ ورانہ اہلیت جیسے اشاریوں سے جانچے جائیں گے۔