برلن: صدر آصف علی زرداری سے جرمنی میں سیمنز کے اعلیٰ سطح وفد نے ملاقات کی جس میں پاکستان کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی حل کے ذریعے مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایوان صدر کے مطابق سیمنز کے ایگزیکٹو نائب صدر ڈینیل فریش نے پاکستان میں کمپنی کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور موجودہ تعاون کو مزید وسعت دینے کی آمادگی ظاہر کی۔
ملاقات صدر زرداری کے جرمنی کے سرکاری دورے کے تیسرے اور آخری روز برلن میں ہوئی۔ ایوان صدر کے بیان کے مطابق سیمنز کے نمائندوں نے صحت کے شعبے میں تکنیکی معاونت، استعداد کار بڑھانے اور جدید طبی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق امکانات پیش کیے۔ وفد نے بتایا کہ کمپنی کے نمائندے جلد پاکستان کا دورہ کر کے مقامی شراکت داروں کے ساتھ صلاحیت سازی اور صحت کی ٹیکنالوجی سے متعلق شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر کام کریں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ کمپنی کا تکنیکی تعاون کینسر، فالج اور دیگر بیماریوں سے متعلق طبی انفراسٹرکچر تک پھیل سکتا ہے۔ صدر زرداری نے تحقیق پر مبنی اور ٹیکنالوجی سے چلنے والے حل اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معیاری صحت کی سہولتوں تک وسیع رسائی بالخصوص دور دراز اور کم آمدنی والے علاقوں کے لوگوں کے لیے اہم ہے۔
صدر نے جرمن صنعتی اور تکنیکی اداروں کی پاکستان میں موجودگی کو سراہا اور سیمنز کو صحت کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری اور شراکت داری بڑھانے کی دعوت دی۔ انہوں نے کمپنی کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
یہ ملاقات پاکستان اور جرمنی کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے قریب ایسے وقت ہوئی ہے جب دونوں ممالک اقتصادی، تعلیمی، دفاعی اور تکنیکی روابط بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔ سیمنز کی جانب سے تعاون بڑھانے کا اظہار ایک ارادہ ہے؛ مجوزہ مفاہمتی یادداشتوں، سرمایہ کاری کے حجم یا منصوبوں کی حتمی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔
