برلن: جرمن ٹیکنالوجی کمپنی سیمنز نے پاکستان کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور جدید طبی ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنانے کے لیے تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت صدر آصف علی زرداری کے دورہ جرمنی کے دوران برلن میں سیمنز کی قیادت کے ساتھ ملاقات میں سامنے آئی، جسے ایوان صدر نے پاکستان اور جرمنی کے اقتصادی تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیا۔
ایوان صدر کے مطابق ملاقات میں سیمنز کے سینئر نمائندوں نے پاکستان میں کمپنی کی طویل موجودگی اور توانائی، صنعت اور صحت سے متعلق شعبوں میں جاری سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ بات چیت میں بالخصوص طبی تشخیص، جدید ہسپتال ٹیکنالوجی، آلات اور صحت کے نظام کی استعداد بڑھانے کے امکانات زیر غور آئے۔
صدر زرداری نے جرمن کمپنی کو پاکستان میں سرمایہ کاری متنوع بنانے اور نئی ٹیکنالوجی، مقامی استعداد اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بڑی آبادی اور صحت کی بڑھتی ضروریات کے باعث جدید طبی سہولتوں اور تشخیصی نظام میں سرمایہ کاری کی قابل ذکر گنجائش رکھتا ہے۔
ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ کاروباری تعاون کو صرف آلات کی فراہمی تک محدود رکھنے کے بجائے تربیت، ٹیکنالوجی منتقلی، مقامی شراکت داری اور خدمات کے پائیدار نظام سے جوڑا جائے۔ سرکاری بیان میں کسی نئے سرمایہ کاری معاہدے کی حتمی مالیت یا مخصوص منصوبے کے آغاز کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے گفتگو کو تعاون اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے امکانات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
صدر کے دورہ جرمنی کے دوران اقتصادی اور تجارتی روابط بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ سیمنز کے ساتھ بات چیت اسی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس میں پاکستانی حکام جرمن صنعت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کو ملک کے توانائی، صحت اور صنعتی شعبوں سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آئندہ کسی مخصوص منصوبے کی پیش رفت متعلقہ کمپنی اور پاکستانی اداروں کے باقاعدہ معاہدوں اور عملی فیصلوں سے واضح ہوگی۔
