کراچی: پاکستان کے بڑے ادائیگی نیٹ ورک 1LINK نے کہا ہے کہ 2026 میں اس کے مختلف پیمنٹ ریلز، مالی و غیر مالی خدمات، ویلیو ایڈڈ سروسز اور فراڈ رسک مینجمنٹ سے متعلق سرگرمیوں پر ٹرانزیکشنز کی مجموعی تعداد 12 ارب سے زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ ان کا مالی حجم 90 کھرب روپے کے قریب پہنچنے کی توقع ہے۔ بزنس ریکارڈر اور پاکستان ٹوڈے کے کاروباری جریدے پروفٹ نے کمپنی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے حوالے سے یہ رپورٹ کیا ہے۔
دستیاب اعدادوشمار کے مطابق 1LINK نے 2025 میں 10 ارب سے زیادہ ٹرانزیکشنز پروسیس کیں جن کی مجموعی مالیت 75.4 کھرب روپے تھی۔ کمپنی کے مطابق یہ ٹرانزیکشن تعداد میں تقریباً 20 فیصد اور مالیت میں 19.3 فیصد سالانہ اضافہ تھا۔ 1LINK کے چیف کارپوریٹ افیئرز اور کمپنی سیکرٹری سید سلیمان حسن نے کہا کہ نیٹ ورک کے ذریعے پروسیس ہونے والی ادائیگیوں کا حجم پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 75 فیصد کے برابر پہنچنے کی راہ پر ہے۔
جنوری سے ستمبر 2026 کے دوران 1IBFT کے ذریعے تقریباً 99 کروڑ 89 لاکھ ٹرانزیکشنز ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت 43.7 کھرب روپے بتائی گئی ہے۔ اسی عرصے میں 1BILL نے تقریباً 17 کروڑ 6 لاکھ ٹرانزیکشنز پروسیس کیں، جن کا مالی حجم 12.3 کھرب روپے رہا۔ کمپنی کے اے ٹی ایم سوئچنگ نیٹ ورک پر بھی تقریباً 28 کروڑ 54 لاکھ ٹرانزیکشنز ہوئیں جن کی مالیت 3.2 کھرب روپے تھی۔
1LINK کے مطابق پاکستان کے مقامی کارڈ اسکیم PayPak کے تقریباً 1 کروڑ 68 لاکھ کارڈز جاری ہو چکے ہیں اور ڈیبٹ کارڈز کی مجموعی گردش میں اس کا حصہ تقریباً 28 فیصد ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ نقد رقم پر انحصار کم کرنے، بلوں کی ادائیگی، فنڈ ٹرانسفر اور خریداری کے الیکٹرانک طریقوں کے پھیلاؤ سے جڑا ہوا ہے۔
1LINK پاکستان کے بینکوں، مالیاتی اداروں، سرکاری محکموں، فن ٹیک کمپنیوں اور صارفین کو باہم جوڑنے والے ادائیگی انفراسٹرکچر میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ادارے نے اپنی 22ویں سالگرہ کے موقع پر کہا کہ اس کی توجہ باہمی مطابقت، محفوظ ادائیگی نظام اور نئی ڈیجیٹل خدمات کے فروغ پر ہے۔
کمپنی کی 12 ارب سے زیادہ ٹرانزیکشنز اور 90 کھرب روپے کے قریب حجم کی پیش گوئی ایک تخمینہ ہے، کوئی حتمی سالانہ نتیجہ نہیں۔ 2026 کے مکمل اعدادوشمار سال ختم ہونے اور کمپنی یا متعلقہ مالیاتی اداروں کی حتمی رپورٹنگ کے بعد واضح ہوں گے۔
