تھر: سندھ میں تھر بلاک ٹو کوئلہ کان کے تیسرے توسیعی مرحلے کا 5 اکتوبر کو افتتاح کر دیا گیا، جس کے بعد کان کی سالانہ پیداواری گنجائش 7.6 ملین ٹن سے بڑھ کر 11.2 ملین ٹن ہوگئی ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق 3.6 ملین ٹن سالانہ اضافی پیداوار سے مقامی کوئلے کی فراہمی بڑھے گی اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد ملے گی۔
عرب نیوز پاکستان کی رپورٹ کے مطابق فیز تھری سے کان کی گنجائش میں تقریباً 47 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اضافی کوئلہ کراچی کے قریب پورٹ قاسم میں قائم 660 میگاواٹ لکی الیکٹرک پاور کمپنی کے پلانٹ کو فراہم کیا جائے گا، جو تاریخی طور پر بڑی حد تک درآمدی کوئلے پر چلتا رہا ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق گزشتہ مالی سال میں اس پلانٹ کے کوئلے کے استعمال میں تھر کوئلے کا حصہ 33 فیصد تھا جبکہ باقی 67 فیصد درآمدی ایندھن تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے توسیعی منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ تھر کوئلے کے استعمال سے ملک کے زرمبادلہ کی بچت ہو رہی ہے۔ سندھ حکومت کے مطابق فیز تھری منصوبہ خود مالی وسائل سے مکمل کیا گیا اور اس سے سالانہ مزید 220 ملین ڈالر کے زرمبادلہ اور تقریباً 15 ارب روپے کے بجلی پیداواری اخراجات کی بچت متوقع ہے۔ یہ اعداد حکومتی تخمینے ہیں اور حقیقی بچت مستقبل میں ایندھن کی قیمتوں، استعمال اور پلانٹس کی کارکردگی پر منحصر ہوگی۔
سرکاری ڈیٹا کے مطابق گزشتہ مالی سال میں تھر کوئلہ مکمل یا جزوی طور پر استعمال کرنے والے چھ بجلی منصوبوں کی مجموعی صلاحیت 3,960 میگاواٹ تھی۔ ان منصوبوں نے 16,447 گیگاواٹ آور بجلی پیدا کی اور تقریباً 13.8 ملین ٹن مقامی کوئلہ استعمال کیا۔ بلاک ٹو کان پہلے ہی مجموعی طور پر 1,320 میگاواٹ کے تین پاور پلانٹس کو مکمل طور پر کوئلہ فراہم کر رہی تھی، جبکہ لکی پلانٹ کے اضافے کے بعد اس کان سے منسلک پلانٹس کی مجموعی صلاحیت 1,980 میگاواٹ بنتی ہے۔
پاکستان نے تھر کے لگنائٹ ذخائر سے تجارتی بجلی پیداوار 2019 میں شروع کی تھی۔ مقامی کوئلے کے حامی اسے درآمدی ایندھن کے بل میں کمی اور توانائی تحفظ کے لیے اہم قرار دیتے ہیں، جبکہ کوئلے کے استعمال کے ساتھ کاربن اخراج اور ماحولیاتی اثرات سے متعلق سوالات بھی برقرار ہیں۔ موجودہ افتتاح نئی بجلی پیداواری صلاحیت کے بجائے بنیادی طور پر کان کی پیداوار بڑھانے اور موجودہ پلانٹس میں مقامی ایندھن کا حصہ بڑھانے سے متعلق ہے۔
سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے بلاک ٹو کی سالانہ کان کنی کی گنجائش مستقبل میں 20 ملین ٹن تک لے جانے کے ہدف کا بھی ذکر کیا۔ یہ مستقبل کا ہدف ہے، موجودہ مکمل شدہ گنجائش 11.2 ملین ٹن سالانہ ہے۔
