اسلام آباد: پاکستان میں شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار 2025 کے دوران پہلی مرتبہ جوہری بجلی کی پیداوار سے آگے نکل گئی۔ پاکستان ٹوڈے کے کاروباری جریدے پروفٹ کے مطابق ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ 2026 میں پاکستان کی شمسی پیداوار 36.3 ٹیراواٹ آور بتائی گئی ہے، جبکہ جوہری بجلی کی پیداوار 22.5 ٹیراواٹ آور رہی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ایٹمی بجلی گھروں نے 2025 میں اپنی پیداوار میں 3.7 فیصد اضافہ کیا اور 22.5 ٹیراواٹ آور کی ریکارڈ سطح تک پہنچے۔ ڈان نے بھی اسی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ جوہری پیداوار میں اضافہ ہوا، تاہم ملک میں شمسی توانائی کی توسیع اس سے کہیں زیادہ تیز رہی۔ اس تبدیلی سے بجلی کے شعبے میں صارفین کی جانب سے کم لاگت کے متبادل ذرائع کی طرف بڑھتے رجحان کی عکاسی ہوتی ہے۔
پروفٹ کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 36.3 ٹیراواٹ آور کا شمسی تخمینہ ممکنہ طور پر حقیقی پیداوار سے کم ہے، کیونکہ پاکستان میں بڑی تعداد میں گھریلو، تجارتی اور صنعتی سولر سسٹم ایسے ہیں جو سرکاری گرڈ کے ذریعے ریکارڈ نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے آف گرڈ اور خود استعمال ہونے والی شمسی بجلی کا ایک حصہ باضابطہ اعدادوشمار میں شامل نہیں ہو پاتا۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سولر پینلز کی درآمد اور نجی سطح پر تنصیب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بلند بجلی نرخ، لوڈ مینجمنٹ اور کاروباری صارفین کی لاگت کم کرنے کی کوششیں اس رجحان کے اہم محرکات میں شمار ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2017 کے بعد سے پاکستان میں سولر پینلز کی درآمدی صلاحیت 58 گیگاواٹ سے زیادہ رہی ہے، اگرچہ درآمد شدہ تمام پینلز کے فوری طور پر نصب یا فعال ہونے کا مطلب نہیں لیا جا سکتا۔
جوہری توانائی اب بھی پاکستان کے بجلی کے نظام میں اہم بنیاد فراہم کرتی ہے اور ملک میں چھ آپریشنل ری ایکٹر مجموعی طور پر 3,262 میگاواٹ نصب صلاحیت رکھتے ہیں۔ جوہری بجلی کی نسبت شمسی پیداوار کا آگے نکلنا اس شعبے کے خاتمے کا اشارہ نہیں، بلکہ بجلی کے مجموعی مکس میں تیزی سے ابھرتی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔
توانائی پالیسی کے لیے اس تبدیلی کے ساتھ گرڈ استحکام، ذخیرہ اندوزی، نیٹ میٹرنگ، ترسیلی نظام اور دن کے مختلف اوقات میں طلب و رسد کے توازن جیسے مسائل بھی اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ اعدادوشمار 2025 کی سالانہ پیداوار سے متعلق ہیں؛ آئندہ برسوں میں شمسی اور جوہری حصص کی سمت نئے سرکاری اور بین الاقوامی توانائی ڈیٹا سے مزید واضح ہو گی۔
