کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر 5 اکتوبر کو شدید فروخت کے دباؤ کے باعث بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس تقریباً 2,300 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 165,867.31 پوائنٹس پر بند ہوا۔ بزنس ریکارڈر اور پاکستان ٹوڈے کے کاروباری جریدے پروفٹ کے مطابق مارکیٹ نے دن کا آغاز منفی رجحان سے کیا اور مختلف شعبوں میں فروخت بڑھتی گئی۔
پروفٹ کے مطابق ابتدائی کاروبار میں ہی انڈیکس 1,200 سے زیادہ پوائنٹس کھو بیٹھا اور دوپہر تک کمی مزید گہری ہو گئی۔ 12 بج کر 50 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 165,891.20 پر ٹریڈ کر رہا تھا، جو گزشتہ بندش سے 2,264.29 پوائنٹس یا تقریباً 1.35 فیصد کم تھا۔ دن کے اختتام پر بزنس ریکارڈر نے انڈیکس کی بندش 165,867.31 پوائنٹس رپورٹ کی۔
رپورٹس کے مطابق فروخت کا دباؤ کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رہا۔ آٹو اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنریز سمیت متعدد شعبوں کے حصص میں مندی دیکھی گئی۔ مارکیٹ مبصرین نے مقامی سیاسی غیر یقینی، خطے کی کشیدگی اور عالمی توانائی قیمتوں کو سرمایہ کاروں کے محتاط رویے سے جوڑا۔
گزشتہ ہفتہ بھی اسٹاک مارکیٹ کے لیے دباؤ کا شکار رہا تھا۔ پروفٹ کے مطابق کے ایس ای-100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر 2,610 پوائنٹس یا 1.5 فیصد کم ہو کر 168,155 پوائنٹس کے قریب بند ہوا تھا، جبکہ اوسط روزانہ کاروباری حجم بھی نمایاں طور پر کم ہوا۔ بلند عالمی تیل قیمتوں نے افراط زر اور پاکستان کے درآمدی بل سے متعلق خدشات کو دوبارہ نمایاں کیا۔
دوسری طرف بعض معاشی اشاریوں میں بہتری اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے آئندہ جائزے کو سرمایہ کار مستقبل کے اہم محرکات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اے کے ڈی سکیورٹیز کے ہفتہ وار جائزے کے مطابق بہتر معاشی اعدادوشمار مارکیٹ کو سہارا دے سکتے ہیں، تاہم عالمی توانائی قیمتوں اور مقامی سیاسی صورت حال میں تبدیلی قلیل مدت کی سمت پر اثر انداز رہے گی۔
اسٹاک مارکیٹ میں یومیہ اتار چڑھاؤ کو کسی ایک واقعے کا براہ راست نتیجہ سمجھنا مناسب نہیں، کیونکہ حصص کی قیمتیں مقامی سیاست، عالمی منڈیوں، شرح سود، کمپنی نتائج، توانائی اخراجات اور سرمایہ کار توقعات سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔ پیر کی نمایاں کمی نے تاہم یہ دکھایا کہ موجودہ ماحول میں سرمایہ کار خطرے سے بچنے کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں۔
